Posts

علم الاعداد اور اعتراضات

Image
 تحریر: ابوالحسنات قاسمی    علمُ الاعداد سے تشخیص اور لوگوں کے سوالات ایک مشاہداتی و تنقیدی تحریر اللّٰہ تعالیٰ نے اس کائنات میں گوناگوں مزاج، طبیعت اور فکر و نظر رکھنے والے انسان پیدا فرمائے ہیں۔ ہر شخص کو اپنی استعداد کے مطابق فہم و فراست عطا ہوئی ہے اور قرآنِ کریم نے انسان کو اس قوتِ فکر سے مثبت انداز میں کام لینے، غور و فکر اور تدبر سے کام لینے کی ترغیب دی ہے۔ تاہم معاشرے میں کچھ ایسے طالع آزما بھی ہوتے ہیں جو فکر و نظر کو تعمیری سمت دینے کے بجائے سطحیت، جلد بازی اور غیر سنجیدہ طرزِ استدلال کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی شخص کی ذہنی سطح اور فکری طرزِ عمل کو سمجھنے میں سوال اور اندازِ سوال کا بھی خاصا دخل ہوتا ہے۔ میرے مشاہدے میں ایک عجیب دوہرا معیار بارہا سامنے آیا ہے: ایک ہی نوعیت کے معاملے میں اگر واسطہ ڈاکٹر سے پڑے تو سوال کرنے والا عموماً خاصا محتاط رہتا ہے، لیکن اگر معاملہ عامل سے متعلق ہو تو وہی شخص بے تکلفی سے ایسے سوالات شروع کردیتا ہے جن کی بنیاد ہی بعض اوقات غیر متوازن توقعات پر ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی مریض کو لے کر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے۔ ڈاکٹر معائنہ، علامات، ...

ایک یادگار روداد سفر

Image
تحریر: ابوالحسنات قاسمی   ایک یادگار علمی و ادبی تقریب کی روداد تقریبِ رسمِ اجراء "دیوبند کی یادیں" میرے دیرینہ یار، جامعۃ الرشاد، اعظم گڑھ میں سنہ 1994ء کے رفیقِ تدریس و ہم کار، اور برجستہ خامہ فرسا، فی البدیہہ و برجستہ گو نیز طبع زاد شاعر مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب نے حال ہی میں اپنی یادوں کے نہاں خانوں سے ایک گراں قدر کتاب ترتیب دی ہے، جس کا نام ہے: "دیوبند کی یادیں"۔ ماہِ جون 2026ء میں، جب یہ کتاب ابھی مراحلِ کتابت سے گزر رہی تھی، موصوف نے ازراہِ محبت و التفات مجھ سے فرمایا تھا کہ کتاب کی رسمِ اجراء کے موقع پر آپ کی حاضری ناگزیر ہے۔ چنانچہ اس وقت ہی سے اس تقریب میں شرکت کا ایک وعدہ سا دل میں ثبت ہوگیا تھا۔ ماہِ جولائی کے دوسرے عشرے میں کتاب کے نام ہی سے ایک "واٹس ایپ گروپ" تشکیل دیا گیا، جس کے ذریعے 22 اگست 2026ء بروز ہفتہ منعقد ہونے والی تقریبِ رسمِ اجراء کی اطلاع، احباب کو شرکت کی دعوت اور افراد سازی کا سلسلہ شروع ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پرانے رفقائے درس و تدریس سے ملاقات، گزشتہ ایام کی یادوں کی بازآفرینی اور بیتے ہوئے زمانے کے نقوش کو تازہ کرنے...

سفرِ گجرات

Image
             سورت و احمد آباد اور اسلام پورہ کی سیر نئے سفر کی لذتوں سے جسم و جاں کو سر کرو سفر میں ہوں گی برکتیں سفر کرو سفر کرو مورخہ 27 اپریل 2026ء، بروز پیر، صبح دس بجے اپنی عارضی قیام گاہ (مرکز المعارف، جوگیشوری ویسٹ) سے روانگی عمل میں آئی اور بذریعہ لوکل ٹرین ساڑھے گیارہ بجے ممبئی سینٹرل اسٹیشن پر حاضری ہوئی۔ وہاں میرے نہایت مخلص رفیق حضرت مولانا محمد اسلم قاسمی صاحب نے پُرتپاک استقبال فرمایا۔ بعد ازاں وہیں سے قدرے فاصلہ پیدل طے کرتے ہوئے ناگپاڑہ کے معروف "بوستاں ہوٹل" لے گئے، جہاں نہایت عمدہ اور پرتکلف انداز میں ناشتہ کرایا۔ اس کے بعد ایک ذاتی ضرورت کے پیشِ نظر ایک صاحب سے ملاقات مقصود تھی، چنانچہ مولانا بذاتِ خود ساتھ گئے اور ملاقات کا اہتمام فرمایا۔ نصف گھنٹے کے وقفہ کے بعد وہاں سے فراغت ہوئی تو مولانا کے معزز دوست جناب اطہر خان صاحب کے دفتر پہنچے، جہاں چند لمحے استراحت کا موقع ملا۔ اسی دوران ظہر کی اذان کی دلنشیں صدا بلند ہوئی، چنانچہ قریب ہی واقع "مہندی مسجد" میں حاضر ہوکر باجماعت نماز ادا کی گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد ناگپاڑہ کے مشہور "عربیہ...

ممبئی کا یادگار دعوتی سفر

Image
  ممبئی کا یادگار دعوتی سفر، فکرِ دعوت کی نئی جہتیں شورائی نظام کے تحت چلنے والی تبلیغی جماعت کا کل ہند مشاورتی اجتماع (جوڑ) 20، 21 اور 22 اپریل 2026ء بروز پیر، منگل اور بدھ مدنی مرکز جوگیشوری ویسٹ میں منعقد ہوا۔ اس تاریخ کا تعین قبل ازیں بنگلور میں 13، 14، 15 جنوری 2026ء کو ہونے والے اجتماع میں کیا گیا تھا۔ چونکہ بہت سے احباب نے ممبئی کا نام تو سن رکھا ہے مگر یہاں آنے اور قریب سے دیکھنے کا موقع نہیں ملا، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شہر کا مختصر تعارف پیش کردیا جائے تاکہ اس کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت واضح ہو سکے۔ ممبئی کا تعارف: ممبئی، جسے پہلے بمبئی کہا جاتا تھا، ریاست مہاراشٹر کا دارالحکومت اور آبادی کے لحاظ سے بھارت کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ مغربی ساحل پر واقع ایک قدرتی گہری بندرگاہ کا حامل ہے، جہاں سے ملک کی بڑی بحری تجارت انجام پاتی ہے۔ ممبئی کو بھارت کا معاشی مرکز بھی کہا جاتا ہے اور یہ دنیا کے نمایاں شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ شہر سات جزیروں پر مشتمل تھا، جنہیں بعد میں یکجا کیا گیا۔ آج یہ شہر اپنی ثقافتی رنگا رنگی، معاشی سرگرمیوں اور فلمی صنعت (بالی ووڈ) کے ...

کاتب اسرار احمد قاسمی گورکھپوری

Image
   جناب مولانا اسرار احمد قاسمی صاحب عفا اللّٰه عنه و أسکنه فسیح جنّاته ☀️ بحیثیت ایک فن کار خوش نویس ☀️ 💮 تفصیلاً: نام اسرار احمد، ولدیت: تفضل حسین، وطن اسونجی بازار، ضلع گورکھپور (اترپردیش) 🏵️ ولادت: جناب مولانا کاتب اسرار احمد قاسمی صاحب مرحوم کی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہ ہوسکی تاہم ہم عصروں سے معلوم ہوا کہ 1954ء کی پیدائش ہے۔ 🌸 تعلیمی سلسلہ: اسونجی بازار کے ادارہ "مدرسہ عربیہ مصباح العلوم" (قائم شدہ 1930ء) میں چند سال ابتدائی (پرائمری درجہ کی) تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارسی و عربی (درسِ نظامی) کے دو سال بھی یہیں پر مولانا عبد الباقی و مولانا عبد الحق و کچھ دیگر اساتذۂ کرام سے حاصل کرنے کے بعد ضلع فیض آباد کے معروف ادارہ "مدرسہ کرامتیہ دارالفیض" جلال پور، ضلع فیض آباد (موجودہ امبیڈکر نگر) میں داخلہ لیا جو اس وقت شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی قدس سرہ کے شاگرد و معتمد خاص متکلم اسلام حضرت مولانا ضمیر احمد اعظمی (متوفی سنہ 1990ء) کی پرکشش شخصیت کی وجہ سے طالبانِ علوم اسلامیہ کی توجہات کا مرکز بنا ہوا تھا۔ یہاں پر حضرت مولانا ضمیر احمد صاحب و مولانا نبیہ...

حیاتِ مستعار اور خدماتِ جلیلہ

Image
حضرت مولانا جلال الدین قاسمی صاحب نوّر اللّٰه مرقدہ     مہاراج گنج کی عظیم   المرتبت، نادر المثال و یکتائے روزگار شخصیت 🟢 وطنِ اصلی: کہنے کو تو مولانا مرحوم کا وطنِ اصلی "لچھمی پور بھرگاواں" (غیر منقسم ضلع گورکھپور، موجودہ ضلع مہاراج گنج) تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی زندگی کا اصل مرکز و محور مدرسہ ہی رہا، آپ مدرسہ ہی کو اپنا حقیقی مسکن سمجھتے اور وہیں قیام پذیر رہتے۔ گویا وہ اس شعر کے عملی پیکر تھے: ہمیں دنیا سے کیا مطلب، مدرسہ ہے وطن اپنا  مریں گے ہم کتابوں پر، ورق ہوگا کفن اپنا ⚫ مولانا مرحوم کے حصولِ تعلیم کی تفصیلی معلومات تو دستیاب نہ ہوسکیں، البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ آپ کی فراغت دارالعلوم دیوبند سے سن 1971ء میں ہوئی، کیونکہ آپ اکثر اس (اسٹرائیک) ہڑتال کا تذکرہ کیا کرتے تھے جو مناظرِ اسلام حضرت مولانا سید طاہر حسین گیاوی صاحب کے زمانۂ طالب علمی (سنّ مذکورہ) میں وہاں پیش آئی تھی۔ 🟤 بہر کیف! فراغت کے بعد کچھ عرصہ گھر پر رہ کر زراعت میں مشغول رہے۔ آپ جس علاقے (بیالیس گاواں) کے رہنے والے تھے، وہ بدعات کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ وہاں دیوبندی و بریلوی مکتبۂ ...