حیاتِ مستعار اور خدماتِ جلیلہ
✍️ ابوالحسنات قاسمی
حضرت مولانا جلال الدین قاسمی صاحب نوّر اللّٰه مرقدہ
مہاراج گنج کی عظیم المرتبت، نادر المثال و یکتائے روزگار شخصیت
🟢 وطنِ اصلی: کہنے کو تو مولانا مرحوم کا وطنِ اصلی "لچھمی پور بھرگاواں" (غیر منقسم ضلع گورکھپور، موجودہ ضلع مہاراج گنج) تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی زندگی کا اصل مرکز و محور مدرسہ ہی رہا، آپ مدرسہ ہی کو اپنا حقیقی مسکن سمجھتے اور وہیں قیام پذیر رہتے۔ گویا وہ اس شعر کے عملی پیکر تھے:
ہمیں دنیا سے کیا مطلب، مدرسہ ہے وطن اپنا
مریں گے ہم کتابوں پر، ورق ہوگا کفن اپنا
⚫ مولانا مرحوم کے حصولِ تعلیم کی تفصیلی معلومات تو دستیاب نہ ہوسکیں، البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ آپ کی فراغت دارالعلوم دیوبند سے سن 1971ء میں ہوئی، کیونکہ آپ اکثر اس (اسٹرائیک) ہڑتال کا تذکرہ کیا کرتے تھے جو مناظرِ اسلام حضرت مولانا سید طاہر حسین گیاوی صاحب کے زمانۂ طالب علمی (سنّ مذکورہ) میں وہاں پیش آئی تھی۔
🟤 بہر کیف! فراغت کے بعد کچھ عرصہ گھر پر رہ کر زراعت میں مشغول رہے۔ آپ جس علاقے (بیالیس گاواں) کے رہنے والے تھے، وہ بدعات کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ وہاں دیوبندی و بریلوی مکتبۂ فکر کے درمیان مناظرہ ہو رہا تھا۔ دیوبندی مسلک کے اصل مناظر دلائل پیش کرنے میں تھک چکے تھے۔ اتفاقاً حضرت مولانا جلال الدین صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ ضبط نہ کرسکے اور اسٹیج پر تشریف لے آئے۔ چونکہ آپ کثیر المطالعہ تھے، اس لیے دلائل و براہین کا ایسا انبار لگایا کہ مناظرہ فتح ہوگیا۔ چنانچہ وہاں کے دیوبندی نظریہ رکھنے والے لوگوں نے اصرار کیا کہ اب آپ یہیں رہ کر درس و تدریس کی ذمہ داری سنبھالیں تاکہ اس خطے میں دینِ حق اور صحیح عقائد کا غلبہ ہوسکے۔ یوں مدرسہ عربیہ "تاج العلوم لچھمی پور" سے تدریسی سلسلے کا آغاز کیا۔
سال بھر سے کچھ زائد عرصہ وہاں پڑھانے کے بعد کسی وجہ سے مدرسہ مدینہ العلوم گنیش پور (مہاراج گنج) منتقل ہوگئے۔ گنیش پور کے ہی ایک عالم اس وقت مدرسہ عربیہ انجمن اسلامیہ، قصبہ اُنول میں مدرس تھے، چنانچہ 1977ء میں وہ حضرت مولانا کو اپنے ساتھ اُنول لے آئے۔ وہاں چند سال تعلیمی خدمات انجام دینے کے بعد 1982ء میں آپ "مصباح العلوم اسونجی بازار" (ضلع گورکھپور) تشریف لے آئے۔
🟣 مصباح العلوم آمد کا پس منظر: تقریباً پانچ یا چھ برس سے یہاں درسِ نظامی کی تعلیم موقوف تھی۔ راقم السطور اس وقت پرائمری درجہ سوم کا طالب علم تھا، اسی کمرے کی چھت سے کچھ نیچے دیوار میں طاق نما جگہ (Shelf) بنی ہوئی تھی جس میں درسِ نظامی کی کتابیں بوسیدہ حالت میں رکھی ہوئی تھیں۔" مدرسہ کے ایک استاذ مولانا سعید احمد قاسمی صاحب کو اس صورتحال پر شدید فکر لاحق ہوئی۔ وہ ایسے عالم کی تلاش میں تھے جو تعلیمی نظام کی بحالی، طلبہ و اساتذہ کے انتظام اور مالی وسائل کی فراہمی جیسی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔ ان کی نظر حضرت مولانا پر ٹھہری۔ گفت و شنید کے بعد بات طے ہوگئی اور آپ چند طلبہ و اساتذہ کے ساتھ اسونجی تشریف لے آئے۔ یہاں تقریباً تین سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران مدرسہ کو بیرونی مذہبی شدت پسندی اور بعض سازشوں کا سامنا بھی رہا۔
🔵 تعمیرِ مدرسہ و مسجد: حضرت مولانا کی آمد کے وقت تعمیراتی کام نہایت کم تھا اور طلبہ کی بڑھتی تعداد کے سبب رہائش و تعلیم کے لئے جگہ ناکافی تھی۔ جنوب مغرب میں دو کمروں کی بنیاد پڑی تھی اور مسجد کی زمین پر مغربی جانب چار فٹ اونچی دیوار موجود تھی، باقی میدان تھا۔ مولانا نے سب سے پہلے جنوبی حصے کی تعمیر کا ارادہ کیا۔
مقامی بااثر افراد سے معلوم ہوا کہ گاؤں کے اکثر لوگ روزگار کے لئے احمدآباد میں مقیم ہیں۔ آپ نے ان کے ناموں کی فہرست تیار کی، ایک ہفتے کے اندر احمدآباد کا سفر کیا، مالی تعاون حاصل کیا اور واپس آکر تعمیر مکمل کرائی۔ اس کے بعد مسجد کی تعمیر میں مصروف ہوگئے۔ اس دوران آپ کو مسلم و غیر مسلم سبھی حلقوں میں بے حد عزت حاصل ہوئی اور آپ مرجعِ خلائق بن گئے۔
عَبْقَرِيٌّ فِي فِكْرِهِ وَفِطْنَتِهِ
كَأَنَّهُ بَيْنَ الْوَرَى فِي مَعْبَدِ
یہی محبوبیت و مرجعیت ایک برہمن کو ناگوار گزر رہی تھی، جس کا تفصیلی تذکرہ ذیل میں آرہا ہے۔ حالانکہ حضرت مولانا کی آمد سے قبل وہ بھی اچھی ذہنیت اور رکھ رکھاؤ والے شخص تھے۔
🟠 خیر خواہی بنا بدی کا سبب: اب جب کہ مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا تو باوجود کہ مدرسہ کی زمین کے بیعنامہ کا دستاویز موجود تھا، مدرسہ کی مسجد کے عقب میں کچھ زمین اسی برہمن کی تھی مدرسہ کے ناظم نے ان سے خیر خواہی کے جذبہ سے کہا کہ "مدرسہ کی مسجد بننے والی ہے، کہیں آپ کی کچھ زمین مدرسہ کے اندر تو نہیں ہے"، اب ان کو تجسّس ہوا کہ اگر میری زمین کے کچھ حصے پر مدرسہ کا قبضہ نہیں ہے تو یہ سوال کہاں سے پیدا ہوا؟ سو انہوں نے کچہری میں پیمائش نیز عارضی رکاوٹ کی درخواست ڈال دی۔ ہفتہ (سنیچر) کا دن تھا، جیسے ہی اطلاع موصول ہوئی کہ مسجد کی تعمیر روکنے کے لئے (Stay order) پاس کرایا ہے۔ حضرت مولانا نے گاؤں کے معزز و با اثر افراد کو برائے مشورہ جمع کیا، وسائل و اخراجات کی کمی تھی، اروا بازار میں بلڈنگ میٹیریل کی ایک دکان تھی جہاں سے مدرسہ کی تعمیر کے لئے نقد سامان آیا کرتا تھا، مولانا نے دوکاندار سے کہا کہ کل (بروز اتوار) اتنا اتنا فلاں فلاں سامان درکار ہے، اور مدرسہ کے پاس رقم بالکل نہیں ہے، دوچار دن میں ادا کردیں گے۔ اس نے برضا و رغبت ہامی بھرلی، جنوری کا مہینہ تھا، اس دوران مشرقی اتر پردیش میں لگ بھگ ڈیڑھ ماہ تک اس قدر گھنا اور شدید کہرا رہا کہ دھوپ کا نکلنا بھی محال ہو گیا تھا، سردی کی شدّت کی وجہ سرِ شام ہی لوگ گھروں میں قید ہوجاتے تھے۔ مغرب کے بعد اروا بازار سے چند ٹرالیوں سے سامان آیا، گاؤں والے ٹریکٹر و ٹرالیوں کی آواز سن کر یہ سمجھے کہ چور، ڈاکو آگئے ہیں، کوئی باہر نکلنے کی ہمت نہ کر رہا تھا۔ خیر سامان آگیا، بَلّی (شہتیر) بانس و پٹرے تو پہلے سے مدرسہ میں موجود تھے جو کہ کرایہ پر دیئے جاتے تھے۔ گاؤں کے چھوٹے و بڑے سبھی لوگوں نے طے شدہ وقت پر حاضر ہوکر لیبر کی خدمات انجام دیں۔ (پہلے سے جو راج مستری کام کر رہے تھے وہ خوف کے مارے کام چھوڑ کر فرار ہوگئے کہ کہیں ہم پر مقدمہ نہ ہوجائے)، چند راج مستریوں کا فوری انتظام کیا گیا، راتوں رات مسجد کی بقیہ دیوار کی تکمیل اور چھت سازی ہوگئی۔
اگلے دن (پیر کو) بوقت صبح جب گاؤں کے ہندو برادری کے لوگ قضائے حاجت کی غرض سے باہر نکلے تو یہ ماجرا دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اور جب دس بجے کے قریب کچہری سے جائزہ لینے کے لئے (Court Commission) عدالتی معائنہ کار افسران و وکلاء کا وفد حاضر ہوا تو دیکھا کہ تعمیر مکمل ہے، الٹی پاؤں واپس ہوگئے۔ بہر حال!
"یہ فسانہ زلفِ دراز کا کہیں زندگی سے دراز ہے"
🟤 اگلے دن صبح کے وقت حضرت مولانا چند معزز افراد (محی الدین عرف پیر جی، محمد یوسف عرف صدر صاحب، شوکت علی عرف منتری جی، راقم کے خالو ریاض الحق ناظم صاحب، سیٹھ سعد اللّٰہ صاحب، محمد بابا و دیگر چند) کے ہمراہ گاؤں میں ہنگامی چندہ اکٹھا کرنے نکلے، جس کے دروازے پر پہونچتے پہلے ناشتہ و چائے نوشی کراتا پھر چندہ دیتا۔ لوگوں میں راتوں رات مسجد تیار ہونے کا جوش وخروش تھا، خوب دل کھول کر امداد کیا، خواتین نے رقم کے ساتھ ساتھ داگینے بھی عطیہ کئے۔ اور اس طرح ادھار آمدہ سامان کی قیمت ادا کر دی گئی۔
اسونجی والوں کے اس جذبۂ ایثار و تعاون کو دیکھ کر مولانا مرحوم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ "اسونجی دودھاری گائے ہے، جب چاہو دوہ لو۔"
🔴 بناءِ تعصب: اب ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ اس برہمن کے دل میں حضرت مولانا مرحوم اور ساتھ ہی گاؤں کے مسلم برادری کے تئیں نفرت و عصبیت نے کیسے جنم لیا۔ تو امرِ واقعہ یہ ہے کہ "پہلے یہاں کے مسلمان اور دیگر پسماندہ طبقات کے لوگ اگر کہیں بیٹھے ہوئے ہوتے، اور کسی برہمن (پنڈت) کا ادھر سے گزر ہوتا تو لوگ کھڑے ہوجاتے، راستہ چھوڑ دیتے۔ بہر کیف! ہوا یوں کہ کسی صاحب نے حضرت مولانا سے اس حرکت کا تذکرہ کر دیا۔ اگلے جمعہ کو خطابِ جمعہ میں اسی موضوع پر حضرت کا بیان ہوا، منجملہ تمام باتوں کے یہ بھی کہا کہ "یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک چُرکی پرشاد جب راستہ چلتا ہے تو لوگ نہ صرف یہ کہ اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں، بلکہ چہرہ بھی ادھر سے ہٹا لیتے ہیں کہ کہیں وہ ڈانٹ ڈپٹ نہ کرنے لگے"، آئندہ جن لوگوں کا بیٹھنے کی حالت میں اس سے سامنا ہوتا اسی حالت پر قائم رہتے۔ اس برہمن نے قیاس لگایا کہ ہو نہ ہو اسی مولانا نے میری آؤ بھگت پر ڈاکہ زنی کی ہو؟ چنانچہ سب سے پہلے اس نے مدرسہ کی مسجد کے تعمیری کام میں رکاوٹ ڈالنے سے اظہارِ نفرت کی ابتداء کی۔ اس طرح اس نے پوری بستی میں مسلمانان و ہنود کے درمیان تفرقہ کی بنیاد پڑ گئی۔ خیر بفضلِ خدا مسجد تعمیر ہوگئی۔
اب اس معاملہ سے متاثر ہوکر صرّاف برادری کا ایک فرد مذہبی عصبیت میں کافی آگے نکل گیا، اس نے سوچا کہ کوئی ایسی اوچھی حرکت کی جائے جس کا الزام مولانا کے سر مڑھ دیا جائے۔
🌼 ہولیکا جلانے کا واقعہ: جب ہندؤوں نے (سَنوَت) پرانے سال کی رخصتی اور نئے سال کے آغاز پر ہولیکا کی علامت کھڑی کیا {ہولیکا دہن سے چند دن پہلے ہندو عقیدے کے مطابق نیکی کی بدی پر فتح اور موسم بہار کی آمد کی علامت ہے۔ اس میں لکڑی کا ایک لمبا کھمبا، جسے ہولیکا "ہیرانیا کشیپ کی بہن کی علامت مانا جاتا ہے، جو آگ میں جل گئی تھی"۔} یہ علامت پوجا کے ساتھ زمین میں گاڑا جاتا ہے، جس کے گرد خواتین اکثر برکت کی خواہش کے لیے گھومتی ہیں۔ یہ رسم آخر میں ہولیکا دہن (لکڑیوں کو آگ لگانے) پر ختم ہوتی۔ ابھی یہ ادا کرنے میں ایک دن باقی تھا، غروب آفتاب کے وقت جب کہ ہندو خواتین و بچے اس کے گرد گھومتے ہیں عین اسی وقت اس برما شخص نے آگ لگا دیا {تاکہ اس کا الزام مسلمانوں پر لگایا جاسکے} اور ہوا بھی یہی، جیسے ہی دھواں اور آگ کی لپٹیں بلند ہوئیں پوری بستی میں کہرام مچ گیا کہ یہ کس نے کیا، کس نے کیا؟؟۔
رات جیسے تیسے خوف و ہراس میں گزری، اگلے دن صبح تھانہ پر دونوں برادریوں کے با اثر لوگوں کو طلب کیا گیا، حضرت مولانا
کو تھانے میں دیکھتے ہی انچارج نے زبردست طریقے سے سلامی پیش کیا۔ اور معاملہ کی تحقیقات بہت گہرائی سے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ قصہ مختصر یہ کہ اس واقعہ کو انجام دیتے وقت ایک ہندو بھائی نے دیکھ لیا تھا، چنانچہ اس نے تفتیش کے دوران راز کو فاش کر دیا، اب قبل از وقت ہولیکا جلانے والے کے لئے اعتراف و اقبالِ جرم کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ اس طرح فسطائی و شرپسند طاقتوں کی سازش ناکام ہوگئی، چنانچہ ایک مرتبہ پھر حضرت مولانا (اور گاؤں کے مسلمان) سرخرو ہوئے۔
💮 تأسّف: بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس علامت کو برادران ہند "اچھائی کی برائی پر فتح" کے لئے استعمال کرتے ہیں، اس کو ایک ناہنجار ہندو نے "برائی" کے لئے ہی استعمال کیا۔ اسی طرح سے اس سے اگلے سال پھر چند ہنود نے قبل از وقت ہولیکا جلایا۔
⚛️ گھٹ (گھڑا) پھوٹنے کا واقعہ: ہندو مت (ہندو عقیدہ کے مطابق) کسی کے فوت ہونے کے بعد پیپل کے درخت پر پانی کا گھڑا لٹکانے کی رسم جس کو "گھٹ" (Ghat)، "گھٹ سپان" کہا جاتا ہے۔ یہ رسم میت کی آتما (روح) کی پیاس بجھانے کے لیے دس دنوں تک (دس گاترا) کی جاتی ہے، تاکہ اسے سکون مل سکے۔ دسویں دن اس گھڑے کو توڑا جاتا ہے۔
اسونجی میں مدرسہ کے قریب ہی موجود پیپل کے درخت پر گھٹ لٹکایا جاتا تھا، اس کو مدرسہ کے کسی طالب علم نے پھوڑ دیا۔ اس معاملہ کو لے کر بھی گاؤں میں کافی تنازعہ و تشویشناک ماحول تھا، باوجود کہ یہ نامناسب کام گاؤں کے لڑکے نے کیا تھا مگر چونکہ وہ مدرسہ کا طالب علم تھا اس لئے واقعہ کو مدرسہ اور مولانا سے ہی منسوب کرکے پیش کیا گیا، اور ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم جیسے ہی معاملہ پولیس چوکی پہونچا، حضرت مولانا کو طلب کیا گیا، مولانا وہاں حاضر ہوئے، تھوڑی دیر میں چوکی انچارج نے معاملہ کو رفع و دفع کردیا۔
❄️ بہرحال! مصباح العلوم، اسونجی بازار میں آپ کے قیام کا دورانیہ آزمائشوں سے پُر رہا، تاہم نہایت وقار اور حسنِ تدبیر کے ساتھ آپ نے پوری مدتِ قیام کو گزارا۔
ہر چند کہ اسونجی بازار اور اطراف کے علاقوں کی مسلم عوام نیز مدرسہ کے تمامی اساتذہ کرام اور ذمہ داران کی غالب اکثریت آپ کی تعلیمی و تعمیری اور اصلاحی کارکردگی کے باعث آپ سے بے لوث اور والہانہ محبت و عقیدت کی بنیاد پر کبھی نہیں چاہتے تھے کہ آپ یہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل ہوں، بایں ہمہ
معدودے چند اراکینِ مدرسہ و ذمہ داران، کینہ توزی و حاسدانہ مخاصمت میں بے نہایت آپ کی عزت و کرامت کے درپے ہوگئے جس کے پیش نظر آپ کا مستعفی ہونا ناگزیر ہوگیا۔ گویا آپ اس شعر کا مکمل مصداق تھے۔
رنج سے خوگر ہوا اِنساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
🔵 جامعہ رحمانیہ فیض العلوم میں خدمات: یہاں سے رخصت ہو کر آپ جامعہ رحمانیہ فیض العلوم، کپتان گنج کشی نگر، چلے گئے اور تا دمِ آخر وہیں علمی و تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ کی خدمات کا دورانیہ چالیس سال کے عرصہ پر محیط رہا ہے۔
⚪ تعلیقی سطور: جب یہ مذکورہ بالا واقعات و معاملات پیش آئے اس وقت تو راقم السطور ابتدائی عربی درجہ کا طالب علم تھا، گویا لاشعوری کا زمانہ تھا، سارے واقعات کما حقّہٗ تو یاد نہیں، تاہم ان واقعات کی مدھم سی تصویریں ذہن کے گوشوں اور دماغ کے دریچوں میں بازگشت کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ جب مولانا مرحوم مصباح العلوم، اسونجی بازار سے کپتان گنج منتقل ہوگئے، تو وہاں سے چندہ فراہمی کی غرض سے اسونجی آتے رہتے، اب حضرت سے کافی بے تکلفی ہوچکی تھی، ایک مرتبہ میں نے استفسار کیا کہ حضرت وہ کیا وجہ تھی کہ جب بھی پولیس چوکی آپ کو طلب کیا جاتا، آپ جاتے اور تھوڑے ہی وقفہ بعد خوش و خرم، باعزت واپس آجاتے۔ حضرت مولانا نے بتایا کہ جب مسجد والے معاملہ میں وہاں جانا ہوا تو چوکی انچارج سے میں نے چند منٹ بات سننے کی گزارش کی، وہ تیار ہوگیا۔ ایک طرف کو ہوکر بس اتنا ہی عرض کیا کہ "جناب! دیکھئے اسونجی نہ تو میر گاؤں ہے، نہ ہی میں ہمیشہ یہاں رہوں گا۔ اسی طرح سکری گنج آپ کا وطن نہیں ہے، اور آپ ہمیشہ یہیں پر تعینات رہیں گے، ہم دونوں ملازم ہیں، فرق یہ ہے کہ میں پرائیویٹ ہوں، آپ سرکاری ہیں۔ کیوں نہ ایسا کام کیجئے کہ آپ کے جانے کے بعد اطراف کے لوگ نیک نامی سے یاد کریں۔" بس نہ صرف یہ بات اس صاحب کے دل بیٹھ گئی، بلکہ میرے تئیں بھی اس کے دل میں اچھا تأثر پیدا ہوگیا۔ اب جب بھی کوئی معاملہ اس کی موجودگی میں پہونچا وہ یہی کہتا کہ یہ کافی "سجّن بِیکتی" (شریف انسان) ہیں، ان کو پھنسانے کی سازش ہو رہی ہے۔ یہ کہہ کر معاملہ رفع کردیتا۔
🟢 شرفِ تلمّذ: سن 1981ء کے اواخر کی بات ہے، بندہ پرائمری درجہ تین کے سالانہ امتحان کے بعد قریب میں قائم ایک ہندی میڈیم اسکول میں درجہ پانچ داخلہ لے لیا، ابھی چھ ماہ ہی گزرے تھے، کہ اسی دوران حضرت مولانا مرحوم اسونجی کے مدرسہ میں تشریف لا چکے تھے، اور تعلیمی سلسلہ زوروں پر تھا، میں جب اسکول سے آتا تو مدرسہ کا نورانی و روحانی ماحول دیکھ کر طبیعت چاہتی کہ وہاں تعلیم ترک کرکے مدرسہ میں ہی داخلہ لے لوں۔ ایک دن وقفۂ ظہیرہ (Interval / lunch break Time 12:30) میں مَیں اپنے ایک مامو زاد بھائی کے ساتھ بیٹھا تھا، وہی مدرسہ کے روحانی منظر کا تذکرہ چھڑ گیا، ہم دونوں نے طے کیا کہ کل سے اسکول نہ آکر مدرسہ میں داخلہ لینا ہے۔ دو دن اسکول ناغہ ہوگیا، والد صاحب نے ناغہ کی وجہ دریافت کی، میں صاف صاف ارادہ بتادیا، مجھے اگلے صبح مدرسہ لے گئے، حضرت مولانا مرحوم سے پہلے کہ ان کو حفظ کی درجہ میں داخل کردیں۔ حضرت مولانا داخلہ سے پہلے امتحان اور جائزہ لیتے کہ طالب علم حفظ کے لائق ہے یا عربی درجہ کے لائق، عمر کا بھی بہت خیال کرتے، بڑی عمر کے لڑکوں کو ان کے سرپرستوں کے چاہتے ہوئے بھی حفظ کی بجائے درس نظامی میں داخل کردیتے۔ چنانچہ میرا امتحان لئے، اور فارسی اول میں بٹھا دیا۔ چھ ماہ تعلیم کا دورانیہ گزر چکا تھا، اسباق، نصاب کے نصف کو پہونچ چکے تھے۔ حضرت مولانا نے "فارسی اوّل" اور "تیسیر المبتدی" حضرت مولانا وکیل احمد صاحب مدظلہ کے سپرد کردیا، اور دیگر کتب فارسی جماعت کے طلبہ کے ساتھ شریک ہوکر پڑھتا رہا، تین ماہ محنت کرکے حضرت مولانا وکیل احمد صاحب کی خاص توجہ سے جماعت کے رفقاء کے ساتھ آمد نامہ و گلزار دبستان وغیرہ پڑھنے لگا۔
عربی بول و دوئم کی بھی چند کتابیں (نحو میر، میزان الصرف، ہدایت النحو، معلم الانشاء، فصول اکبری، علم الصیغہ)
حضرت سے ہی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔
جب عربی سوئم پڑھنے کی نوبت آئی تب مصباح العلوم سے مستعفی ہوکر "مدرسہ فیض العلوم، کپتان گنج، ضلع کشی نگر" چلے گئے۔
جب تک آپ کا قیام مصباح العلوم میں رہا اکثر و بیشتر پیر کے دن آپ کے ساتھ مدرسہ کا پورا عملہ میرے وہاں صبح چائے و ناشتہ کے لئے مدعو ہوتا تھا۔
اسی طرح سے اور بھی بہت سے لوگ بالخصوص راقم السطور کے خالو جان بھی مدعو کیا کرتے تھے۔ ان کے وہاں سے بہت اچھی قرابت داری (Close relationship) تھی، خالہ زاد بھائی عتیق الرحمٰن صاحب سے راہ و رسم اتنی بڑھی کہ یہ ربط دیرپا اور قلبی وابستگی کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ جانبین سے خوشی و مسرت کی تقریبات میں شرکت کا بھی معاملہ چلتا رہا۔
🌼 تفرّدات تدریس: وہ علم و فضل کے آسمان کا درخشاں ستارہ اور اپنے دور کے ممتاز عالم تھے۔ علمِ نحو و صرف میں انہیں امامت کا درجہ حاصل تھا اور عربی قواعد پر کامل دسترس رکھتے تھے۔ پیچیدہ مسائل کو نہایت سادہ، بامحاورہ اور دل نشین انداز میں بیان کرنا ان کا خاص وصف تھا، جس کی بدولت طلبہ ان سے بے حد مستفید ہوتے تھے۔ علمی باریکیوں تک رسائی اور دقیق نکات کی توضیح میں انہیں غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔ اور کند ذہن طلبہ کو اپنی تدریسی مہارت سے باصلاحیت بنا دینا آپ کا امتیازی کمال تھا۔
کلامِ حق ز بیانش گرفت رنگِ جلال
که کرد ظاهر از آن نکتہ ہای بےمثال
قرآنِ مجید کی عبارات میں نحو و صرف کا اجراء کرانا ان کا طرّۂ امتیاز تھا۔ وہ آیاتِ قرآنی کے الفاظ کی تراکیب، اعراب اور صرفی ساخت و باخت کو باریک بینی سے واضح کرتے، جس سے معانی کی لطافت اور بلاغت پوری طرح آشکار ہو جاتی۔ آپ کی تدریس کا انداز ایسا مؤثر تھا کہ طلبہ نہ صرف آسانی سے قواعد سمجھ جاتے بلکہ ان کے اندر قرآن فہمی کی قابلیت بھی ہو جاتی۔ جہاں سے چاہتے نحو و صرف کی تراکیب و قواعد پوچھ لیتے، اور بتانے میں ذرا بھی تاخیر و تردد ہوتا تو اولاً تادیبی ضرب لگاتے پھر یہ شعر پڑھتے۔
صرفیاں را مغز باشد چو سگاں
نحویاں را مغز باشد چو شہاں
یہی وہ تفردات تھے جو آپ کو معاصر علماء میں تفوّق و جداگانہ شناخت بخشتے تھے۔
🟣 نقشِ دوام: بلاشبہ آپ ایک عبقری شخصیت اور فقیدُ المثال ہستی تھے، آپ آسمانِ علم و فضل کے نہ صرف ایک تابندہ ستارہ تھے بلکہ در حقیقت آپ کی ذات اہل علم کے لئے درخشاں عنوان کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپ کی علمی خدمات مدتوں یاد رکھی جائیں گی اور آپ کا فیض اہلِ علم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنا رہے گا۔ درست کہا ہے کہنے والے نے:
ہر کہ آمد نقشِ دیوارِ جہاں شد
آن کہ ماند او نشانِ کارواں شد
🌼 یگانۂ عصر: حضرت مولانا جلال الدین قاسمی صاحب نور اللّٰہ مرقدہ جیسی باکمال، صاحبِ بصیرت، علم و عمل کے ذریعے اپنی شخصیت کو منوا لینے والی، نادر و دیدہ ور اور یکتائے زمانہ ہستیاں مدتوں میں پیدا ہوا کرتی ہیں۔ بجا فرمایا کسی نے۔
کم بود در بــاغِ عــالم مردِ کامــل
ورنہ این گلزار پُر از برگ و نواست
🌼 زادِ آخرت: حضرت مولانا مرحوم ایسے خوش نصیب اور عند اللّٰہ مقبول عالمِ دین تھے جنہوں نے اپنی اولاد کو علمِ دین کی دولت سے مالا مال کیا، انہیں حافظ و عالم، اور مفتی بنا کر گویا اپنے لئے صدقۂ جاریہ کا ایک روشن سلسلہ قائم کر گئے۔ ان کی یہ دینی وراثت نہ صرف ان کے اخلاصِ نیت، بلندئ فکر اور غیرتِ ایمانی کی آئینہ دار ہے بلکہ ان کی اخروی سعادت، رفعتِ درجات اور دوامِ اجر کا بھی قوی ذریعہ ہے۔ یقینا ایسی بافیض تربیت اور اشاعتِ علم کا سلسلہ ان کے لئے قبر و حشر میں نور و سرور کا سبب اور بارگاہِ الٰہی میں قبولیت و مغفرت کا وسیلہ بنے گا۔
🏵️ وصالِ حسرت مآل: بتاریخ 2 نومبر 2023ء، بروز جمعرات، بعد نمازِ عشاء حضرت مولانا کے رحلتِ جانگداز کی خبر آپ کے صاحبزادگان کے ذریعے موصول ہوئی۔ یہ اندوہناک اطلاع سن کر دل غم سے بوجھل ہوگیا اور بے اختیار زبان پر یہ کلمات جاری ہوئے: "اِنّا للّٰه و اِنّا اِلَیْهِ راجعون۔" دعاء گو ہوں کہ حضرت حق جلّ مجدہٗ حضرت مولانا جلال الدین قاسمی صاحب مرحوم و مغفور کو اپنا قربِ خاص مرحمت فرمائیں۔
🔴 تجہیز و تکفین: اگلے روز بروز جمعہ صبح 9 بجے آپ کے آبائی گاؤں لچھمی پور بھرگاواں، ضلع مہراج گنج میں واقع قبرستان کے احاطے میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر آپ کے تلامذہ، منتسبین اور عام سوگواران کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل رنجیدہ تھا۔ حاضرین نے نہایت رقت و احترام کے ساتھ آپ کو سپردِ خاک کیا اور آپ کی مغفرت و بلندیِ درجات کے لئے دعائیں کیں۔
نشانِ مــردِ مــومن با تو گویــم
چو مرگ آید تبسّم بر لبِ اوست

Comments
Post a Comment