ممبئی کا یادگار دعوتی سفر
ممبئی کا یادگار دعوتی سفر، فکرِ دعوت کی نئی جہتیں
شورائی نظام کے تحت چلنے والی تبلیغی جماعت کا کل ہند مشاورتی اجتماع (جوڑ) 20، 21 اور 22 اپریل 2026ء بروز پیر، منگل اور بدھ مدنی مرکز جوگیشوری ویسٹ میں منعقد ہوا۔ اس تاریخ کا تعین قبل ازیں بنگلور میں 13، 14، 15 جنوری 2026ء کو ہونے والے اجتماع میں کیا گیا تھا۔
چونکہ بہت سے احباب نے ممبئی کا نام تو سن رکھا ہے مگر یہاں آنے اور قریب سے دیکھنے کا موقع نہیں ملا، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شہر کا مختصر تعارف پیش کردیا جائے تاکہ اس کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت واضح ہو سکے۔
ممبئی کا تعارف: ممبئی، جسے پہلے بمبئی کہا جاتا تھا، ریاست مہاراشٹر کا دارالحکومت اور آبادی کے لحاظ سے بھارت کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ مغربی ساحل پر واقع ایک قدرتی گہری بندرگاہ کا حامل ہے، جہاں سے ملک کی بڑی بحری تجارت انجام پاتی ہے۔ ممبئی کو بھارت کا معاشی مرکز بھی کہا جاتا ہے اور یہ دنیا کے نمایاں شہروں میں شمار ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر یہ شہر سات جزیروں پر مشتمل تھا، جنہیں بعد میں یکجا کیا گیا۔ آج یہ شہر اپنی ثقافتی رنگا رنگی، معاشی سرگرمیوں اور فلمی صنعت (بالی ووڈ) کے سبب "عروس البلاد" یعنی خوابوں کا شہر کہلاتا ہے۔ اس کے مضافات، جیسے نوی ممبئی اور تھانے، اسے دنیا کے بڑے شہری علاقوں میں شامل کرتے ہیں۔
مدنی مرکز کا تعارف: مدنی مرکز مسجد جوگیشوری ویسٹ میں واقع ایک معروف دینی و اصلاحی مرکز ہے، جو شاستری نگر میں ایس وی روڈ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے آسانی سے قابلِ رسائی ہے۔ یہاں پانچ وقت کی نمازوں کے علاوہ جمعہ اور دیگر مواقع پر خصوصی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ یہ مسجد نہ صرف عبادت بلکہ دینی تعلیم، اصلاحی بیانات اور سماجی سرگرمیوں کا بھی اہم مرکز ہے، جہاں نظم و نسق اور سہولتوں کا عمدہ انتظام موجود ہے، حتیٰ کہ معذور افراد کے لیے بھی مناسب سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
سفر اور شرکت: مشرقی اترپردیش کے گیارہ اضلاع: گورکھپور، مہراج گنج، بستی، سدھارتھ نگر، سنت کبیر نگر، دیوریا، کشی نگر، پڈرونا، بہرائچ، سراوستی اور گونڈہ۔ سے چند فعال داعی (سرگرم کارکن بطور نمائندہ) اس جوڑ میں شرکت کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ ان میں دیوریا سے حضرت مولانا عبدالباری صاحب، بستی سے مولانا محفوظ الرحمن صاحب، اور گورکھپور سے حاجی عبد الرحمن (اسونجی) اور راقم السطور (ابوالحسنات قاسمی) شامل تھے۔
راقم پہلے ہی اپریل کے آغاز میں ممبئی پہنچ چکا تھا، جبکہ دیگر احباب 19 اپریل کی شب ایک بجے لوکمانیہ تلک ٹرمینس پر پہنچے، جہاں مرکز کی جانب سے مقرر رضاکاروں نے ان کا استقبال کیا اور انہیں مرکز تک پہنچایا۔
20 اپریل بروز پیر راقم بھی مدنی مرکز پہنچ کر احباب کے ساتھ شامل ہوگیا۔ قیام کے لیے پانچویں منزل پر کمرہ نمبر 502 فراہم کیا گیا، جو دراصل گیارہویں جماعت (XI سائنس A) کی درسگاہ تھی۔
مورخہ 20 اپریل: اہم سرگرمیاں۔
بیانات: ظہر و عصر کے بعد مختلف صوبوں کی کارگزاری پیش کی گئی۔ اترپردیش کی رپورٹ علی گڑھ سے آئے ہوئے جناب ضیاء صاحب نے پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ صوبہ کے صرف 26 اضلاع میں کام ہو رہا ہے جبکہ دیگر میں مزید محنت کی ضرورت ہے۔
مغرب کے بعد مولانا فرید صاحب (گودھرا) اور حافظ فاروق صاحب کے بیانات ہوئے، جن میں حجاج، معذورین اور دور دراز علاقوں میں دعوتی کام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کے بعد مولانا ظہیر الحسن صاحب نے بالخصوص عصری تعلیم گاہوں (اسکول و کالج) کے طلبہ میں دعوتی محنت کی ضرورت پر زور دیا۔
عشاء کے بعد گورکھپور سے آئے ہوئے احباب کی ضیافت کا انتظام (یونیورسل ٹاور، ویشالی) جوگیشوری میں مقیم راقم السطور کے دیرینہ رفیق جناب مشتاق مرزا صاحب کے یہاں تھا، جہاں نہایت پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا گیا اور سبھی نے خوش دلی سے شرکت کی۔
مورخہ 21 اپریل: اہم سرگرمیاں
فجر کے بعد حضرت مولانا ابراہیم صاحب دیولہ کا مؤثر بیان ہوا، جس میں دعوت کی ضرورت، اہمیت اور طریقۂ کار کو اجاگر کیا۔
مرکز المعارف، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی کا دورہ: بیان سے فراغت کے بعد مولانا عبدالباری صاحب اور الحاج عبد الرحمٰن صاحب مرکز المعارف ممبئی کے دورہ کی غرض سے تشریف لائے۔ راقم السطور پہلے ہی وہاں قیام پذیر تھا۔ اس وقت طلبہ کا درس جاری تھا۔ سب سے پہلے مرکز کے قدیم استاذ مولانا محمد اسلم قاسمی صاحب نے مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا، مرکز کے احوال و کوائف سے آگاہ کیا، اور پھر دارالاقامہ کا معائنہ کرایا۔ اس کے بعد طلبہ کے درمیان مہمانوں کا تعارف پیش کیا گیا۔
تعارف کے بعد مولانا عبدالباری صاحب مدظلہ العالی نے مرکز المعارف کے بانی، حضرت مولانا بدرالدین اجمل صاحب مدظلہ الاقدس کی دینی و علمی خدمات پر روشنی ڈالی، نیز سنہ 1981ء میں مدنی مسجد دیوبند میں اعتکاف کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بھی نہایت دلنشین انداز میں بیان فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی چند قیمتی اور ناصحانہ کلمات سے حاضرین کو مستفید فرمایا۔
بعد ازاں دفتر کا بھی معائنہ کرایا گیا۔ اس طرح تقریباً ایک گھنٹے کے مختصر مگر بابرکت وقت میں مہمانانِ گرامی نے مرکز المعارف کے بارے میں نہایت اچھا تاثر حاصل کیا، اور پھر مدنی مرکز کے لیے روانہ ہوگئے۔
عصر کے بعد علماء کا خصوصی اجتماع ہوا، جس میں مدارس کو دعوتی کام سے جوڑنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اس میں یہ طے پایا کہ ہر ضلع کے ذمہ دار علماء، بڑے مدارس کا دورہ کرکے طلبہ و اساتذہ میں دعوت کی اہمیت اجاگر کریں۔
مغرب کے بعد جماعتوں کی روانگی کے رخ (علاقوں کی ضرورت کے مطابق) طے کرنے پر گفتگو ہوئی۔
مورخہ 22 اپریل: اختتامی نشست
فجر کے بعد مولانا اسماعیل صاحب (گودھرا) کا بیان ہوا۔ اس کے بعد صبح 10 بجے سے مولانا احمد لاٹ صاحب کا اختتامی خطاب ہوا۔
کارِ نبوت کی وراثت، دعوتِ دین کی ذمہ داری اور ہماری فکر: اکابرینِ امت کے ایمان افروز بیانات کا حاصل یہ تھا کہ تبلیغ و دعوت کا یہ عظیم کام درحقیقت کارِ نبوت ہے، اور جب تک اسے نہجِ نبوی پر انجام نہیں دیا جائے گا، اس میں حقیقی برکت اور اثر پیدا نہیں ہوگا۔ انبیاءِ کرام علیہم السلام نے جس اخلاص، حکمت، صبر اور خیر خواہی کے ساتھ انسانیت تک دینِ حق کا پیغام پہنچایا، اسی طرز کو اپنانا ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں: "اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ۔" اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔
یہ آیت ہمیں دعوت کے اصول سکھاتی ہے کہ دعوت نہ سختی سے ہو، نہ جبر سے، بلکہ حکمت، نرمی اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ ہو۔ یہی وہ اسلوب ہے جس سے دل جیتے جاتے ہیں اور زندگیوں میں انقلاب آتا ہے۔
اسی طرح رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً۔" میری طرف سے پہنچا دو، چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔ یہ حدیث ہر کلمہ گو کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ دعوت کا کام صرف علماء تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس ذمہ داری کا حصہ دار ہے۔
اکابرین نے اس بات پر خاص زور دیا کہ دعوت کا دائرہ محدود نہ رہے، بلکہ شہر در شہر، گاؤں در گاؤں، اور گھر گھر تک دین کی روشنی پہنچے، یہاں تک کہ ہر فرد تک کلمۂ حق کا پیغام پہنچ جائے اور ہر ایمان والا عملاً دین پر چلنے والا بن جائے۔ یہ محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک مستقل فکر اور عملی جد و جہد کا تقاضا کرتی ہے۔
اس سلسلے میں مدارس، علماء اور طلبہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ جب علماء اور عوام کے درمیان مضبوط ربط قائم ہوگا، تبھی دین کی اشاعت آسان ہوگی۔ علماء کی رہنمائی اور عوام کی عملی شرکت، دونوں مل کر اس عظیم مشن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مدارس کے ماحول میں بھی دعوتی فکر کو زندہ کیا جائے اور طلبہ کو اس محنت سے جوڑا جائے۔
مزید برآں، اس راستے میں قربانی ناگزیر ہے۔ تاریخِ انبیاء اور سلف صالحین کی زندگیاں اس بات کی شاہد ہیں کہ دین کی اشاعت ہمیشہ قربانیوں کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ وقت، مال، راحت اور خواہشات سب کچھ دین کی خاطر قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔
رسول اللّٰہ ﷺ کا ارشاد ہے: "مَنْ دَلَّ عَلیٰ خَيْرٍ فَلَهٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ۔"
جو کسی نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اسے کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔
یہ بشارت اس محنت کی عظمت کو واضح کرتی ہے کہ دعوت دینے والا خود بھی اجر پاتا ہے اور دوسروں کی نیکیوں میں بھی شریک ہو جاتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ دعوت و تبلیغ صرف ایک کام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر ذمہ داری ہے، جس کا مقصد انسان کو اس کے رب سے جوڑنا اور زندگی کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔ جب ہم اس کام کو اخلاص، سنت کی پیروی اور اجتماعی فکر کے ساتھ انجام دیں گے، تو یقیناً اللّٰہ تعالیٰ اس میں برکتیں نازل فرمائے گا اور دین کی روشنی ہر گوشے تک پہنچے گی۔
دعاء: بوقت 11:13 پر حضرت مولانا ابراہیم صاحب دیولہ کی رقت آمیز دعاء ہوئی، جس سے قبل دعا کی اہمیت اور طریقہ پر مختصر بیان کیا گیا۔ اس طرح 11:26 پر یہ مشاورتی اجتماع اختتام پذیر ہوا۔
اگلا کل ہند مشورہ 25، 26 اور 27 جولائی 2026ء کو حیدرآباد میں منعقد ہوگا، ان شاء اللّٰہ تعالیٰ۔
ہنگامۂ سفر میں اخلاص و ضیافت کی دلنشیں جھلکیاں: چوں کہ ماہِ اپریل میں عصری تعلیم گاہوں میں عموماً سالانہ تعطیلات ہو جاتی ہیں، اور اسی مناسبت سے ممبئی میں حصولِ معاش کی غرض سے آئے ہوئے افراد اپنے اپنے وطن شادی بیاہ کی تقریبات اور امورِ زراعت کے سلسلے میں روانہ ہوتے ہیں، اس لیے ریلوے کا ٹکٹ حاصل کرنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے، اور فضائی سفر کی ٹکٹوں کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ غرض انہی اسباب کے پیشِ نظر مشورہ میں شریک بہت سے احباب کو ایک دو روز کی تاخیر سے ٹکٹ میسر آئے، جن میں گورکھپور سے تشریف لانے والے رفقا بھی شامل تھے۔
چنانچہ اگرچہ مدنی مرکز میں 23 تاریخ کی دوپہر تک قیام و طعام کا باقاعدہ اعلان اور معقول انتظام موجود تھا،
تاہم گورکھپور سے تشریف لائے ہوئے ان معزز رفقاء کے اعزاز میں 22 اپریل کی شب نہایت اہتمام، خلوص اور فراخ دلی کے ساتھ ایک پُرتکلف و باوقار عشائیہ منعقد کیا گیا۔ یہ پُر وقار ضیافت (باندرہ پلاٹ، جوگیشوری ایسٹ) میں مقیم جناب الحاج عبد الرحمٰن صاحب کے برادرِ نسبتی، جناب محمد عارف صاحب کے دولت کدہ پر سجائی گئی، جہاں مہمان نوازی، محبت اور اخلاص کا ایسا دلنشیں منظر دیکھنے میں آیا کہ حاضرین کے قلوب فرحت و مسرت سے لبریز اور جذبۂ تشکر سے معمور ہو گئے۔ اللّٰہ تعالیٰ میزبانِ محترم کو جزائے خیرِ کثیر سے نوازے اور ان کے اس حسنِ سلوک کو شرفِ قبول عطا فرمائے۔
اسی طرح 23 اپریل کے ظہرانہ کا بابرکت انتظام راقم السطور کے دیرینہ رفیق جناب مقیم احمد شیخ صاحب نے اپنے دولت کدہ (کل مہر بلڈنگ، پاٹلی پترا نگر، جوگیشوری ویسٹ) پر فرمایا، جہاں انہوں نے دین کی راہ میں نکلے ہوئے ان داعیانِ حق کی ضیافت میں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل کھول کر خرچ کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے خزائنِ غیب سے انہیں بہترین اجر و ثواب سے نوازے۔
یہ سفر نہ صرف دعوتی اعتبار سے مفید رہا بلکہ باہمی تعارف، تجربات کے تبادلے اور آئندہ کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی نہایت اہم ثابت ہوا۔
🖋️ ابوالحسنات قاسمی





Comments
Post a Comment