کاتب اسرار احمد قاسمی گورکھپوری


   جناب مولانا اسرار احمد قاسمی صاحب عفا اللّٰه عنه و أسکنه فسیح جنّاته


☀️ بحیثیت ایک فن کار خوش نویس ☀️


💮 تفصیلاً: نام اسرار احمد، ولدیت: تفضل حسین، وطن اسونجی بازار، ضلع گورکھپور (اترپردیش)


🏵️ ولادت: جناب مولانا کاتب اسرار احمد قاسمی صاحب مرحوم کی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہ ہوسکی تاہم ہم عصروں سے معلوم ہوا کہ 1954ء کی پیدائش ہے۔


🌸 تعلیمی سلسلہ: اسونجی بازار کے ادارہ "مدرسہ عربیہ مصباح العلوم" (قائم شدہ 1930ء) میں چند سال ابتدائی (پرائمری درجہ کی) تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارسی و عربی (درسِ نظامی) کے دو سال بھی یہیں پر مولانا عبد الباقی و مولانا عبد الحق و کچھ دیگر اساتذۂ کرام سے حاصل کرنے کے بعد ضلع فیض آباد کے معروف ادارہ "مدرسہ کرامتیہ دارالفیض" جلال پور، ضلع فیض آباد (موجودہ امبیڈکر نگر) میں داخلہ لیا جو اس وقت شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی قدس سرہ کے شاگرد و معتمد خاص متکلم اسلام حضرت مولانا ضمیر احمد اعظمی (متوفی سنہ 1990ء) کی پرکشش شخصیت کی وجہ سے طالبانِ علوم اسلامیہ کی توجہات کا مرکز بنا ہوا تھا۔

یہاں پر حضرت مولانا ضمیر احمد صاحب و مولانا نبیہ محمد صاحب اور مولانا اسد اللّٰہ صاحب جیسے مؤقر اور لائق و فائق اساتذۂ کرام کی زیر نگرانی عربی چہارم تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا۔ دارالعلوم میں داخلہ نہیں ہوسکا تو ضلع سہارنپور کے ہی ایک گاؤں چھٹملپور کے "مدرسہ کاشف العلوم" میں داخلہ لے لیا۔ وہاں پر مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی (شارحِ کتبِ کثیرہ) ، مولانا محمد اسلم صاحب، مفتی محمد عمران صاحب دیوبندی جیسے جید اساتذۂ کرام سے دو سال فیض حاصل کرنے کے بعد دورۂ حدیث کے سال دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لے لیا۔ سنہ 1973ء میں یہاں سے فراغت حاصل کی۔ 


🌸 فنّ کتابت سے وابستگی: دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد آپ نے درس و تدریس کی بجائے خوش نویسی کے مشغلہ کو ترجیح دی اور اس کے لئے دیوبند کی سرزمین کو منتخب کیا۔ ابتداء میں تو دیوبند کے مختلف کتب خانوں اور مطابع و پریسوں سے کتابت کے لئے مسودات لے کر کتابت کرتے رہے۔ 

سنہ 1978ء میں ان کے زمانۂ طالب علمی کے دوست مولانا واصف حسین (معروف بہ ندیم الواجدی) نے "عربک ٹیچنگ سینٹر" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کے تحت نصف درجن کے قریب کتابیں شائع کیں، جن میں سے اکثر کی کتابت کاتب اسرار احمد صاحب سے ہی کرائیں، اور 

 دارالعلوم دیوبند کے اجلاس صد سالہ تقریب کی تیاریوں کے وقت مولانا ندیم الواجدی صاحب نے شعبۂ تصنیف و تالیف کے نگراں کے طور پر اپنے زیر نگرانی عربی و اردو کی جو متعدد کتابیں اور رسالے تیار کئے ان میں بھی اکثر کی کتابت کا فریضہ کاتب اسرار احمد صاحب کے ذمہ ہی رہا۔ پھر اجلاس صد سالہ کے فوراً بعد مولانا ندیم الواجدی صاحب نے "دارالکتاب" کے نام سے ایک کتب خانہ قائم کیا، اس سے شائع ہونے والی کتابوں کی کتابت یہی کاتب صاحب ہی کرتے تھے۔ 

⭐ مولانا ندیم الواجدی صاحب نے اپنا کتب خانہ قائم کرنے کے بعد سب سے پہلے امام ابوحامد محمد الغزالی کی شہرۂ آفاق کتاب 'احیاء علوم الدین' کا قسط وار اردو ترجمہ شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا، جو بے حد مقبول ہوا اور "احیاء العلوم" کے نام سے چار جلدوں میں شائع ہوکر منظر عام پر بھی آیا۔ اس اثناء میں جب کہ دارالکتاب کی طرف سے کام کا بہت زیادہ بار تھا، اسی دوران کاتب صاحب دیوبند سے اپنے وطن گورکھپور، اسونجی بازار کسی مناکحتی تقریب میں شرکت کی غرض سے آئے ہوئے تھے، کچھ زیادہ وقت گھر پر ٹھہر گئے، مولانا ندیم الواجدی صاحب نے اولاً دیوبند آنے کے شدید تقاضے کے خطوط لکھے، انتظارِ بسیار کے بعد خود ہی اسونجی بازار ان کو لینے کے لئے آگئے، 

یہ پورا واقعہ حضرت مولانا ندیم الواجدی صاحب رحمہ اللّٰہ متعدد مرتبہ راقم کے سامنے نہایت دلنشیں انداز میں بیان فرمایا کرتے تھے۔ بالخصوص جب مشرقی یوپی کی روایتی طرزِ ضیافت کا تذکرہ آتا تو اس واقعہ کو خاص اہتمام کے ساتھ نقل فرماتے، اور اپنے مخصوص شگفتہ و دل آویز اسلوب سے حاضرین کو محظوظ کر دیتے۔ اختصار کے پیشِ نظر یہاں تفصیل سے گریز کیا جا رہا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ سفر و ضیافت سے متعلق یہ واقعہ اپنے اندر بڑی لطافت اور دلکشی سموئے ہوئے ہے۔ حاصل کلام یہ کہ آپ نے فراغت کے بعد خطاطی کے شغل کو ہی حصولِ معاش کا ذریعہ بنایا۔

🌼 دنیائے خطاطی کی ایک معتبر شخصیت: سر زمینِ دیوبند میں کاتب اسرار احمد صاحب دنیائے خطاطی کے ایک معتمد اور باوقار فرد کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔

 🕳️ دارالعلوم دیوبند، وقف دارالعلوم دیوبند اور اطراف کے متعدد مدارس کے ذمہ داران میں آپ کو غیر معمولی اعتماد حاصل تھا۔ آپ کی زندگی کا نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ نہایت امانت دار، اصول پسند اور دیانت شعار انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دارالعلوم دیوبند کی اسناد، رسیدات اور نہایت اہم دستاویزات کی کتابت و طباعت کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد رہی، اور اس پورے دور میں آپ کے دامنِ دیانت پر کسی قسم کا کوئی داغ نہ آیا۔ حقیقتاً یہ آپ کے اعلیٰ کردار اور امانت داری کی روشن دلیل ہے۔

اسی طرح دارالعلوم وقف دیوبند کے امتحانی پرچے بھی (میرے علم کے مطابق سنہ 2002ء تک) آپ ہی کے قلم سے رقم ہوتے اور آپ ہی کی نگرانی میں طبع کئے جاتے تھے، جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ پر اعتماد کس درجہ مسلم تھا۔


🌼 انفرادیت: دیوبند میں اسکرین پرنٹنگ کے میدان میں "شاداب پرنٹرس" ایک معتبر اور معتمد نام کے طور پر اُبھرا، جس کے پسِ منظر میں کاتب اسرار صاحب کی فنی مہارت اور جد وجہد کارفرما ہے۔ آپ نے اپنی غیر معمولی خوش نویسی اور کتابت کے فن کے ذریعے دیوبند میں ایک نمایاں شناخت قائم کی، آپ اپنے دور کے ایک باکمال اور صاحبِ ذوق فنکار شمار ہوتے تھے۔ تاہم گردشِ حالات نے ایک ایسا موڑ لیا کہ سنہ 1985ء میں ہاتھوں کی انگلیوں میں رعشہ کا عارضہ ہونے کے سبب آپ کو دل پر پتھر رکھ کر کتابت کا محبوب مشغلہ ترک کرنا پڑا۔ یہ مرحلہ یقیناً نہایت صبر آزما تھا، لیکن قدرت نے اس کا نعم البدل بھی عطاء فرما دیا۔ 


💮 سنہ 1996ء میں اپنی ضرورت کے مطابق کمپیوٹر ڈیزائننگ سیکھی۔ کورل ڈرا کی کمانڈس پر عبور حاصل کیا اور "شادی کارڈ، وزٹنگ کارڈ، لیٹر پیڈ، بل بک، رسیدات، تعارف نامے، کیلنڈر، پمفلیٹ اور کتابوں کے سرِ ورق، ٹائیٹل" وغیرہ کمالِ حذاقت و فنکاری کے ساتھ ڈیزائن کرتے۔

 ادھر آپ کے بڑے فرزند، عزیزم مسعود سلّمہ، سنہ 1992ء میں آپ کے دست و بازو بن کر سامنے آچکے تھے۔ انہوں نے ایک ماہر گرافک ڈیزائنر جناب امجد بھائی کی زیرِ سرپرستی فنّ اسکرین پرنٹنگ کی تربیت حاصل کی اور اپنی محنت، لگن اور خداداد صلاحیتوں کے بل پر دیکھتے ہی دیکھتے اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ رفتہ رفتہ "شاداب پرنٹرس" دیوبند میں اسکرین پرنٹنگ کے حوالے سے معیار، اعتماد اور حسنِ کارکردگی کی علامت بن گیا۔ کاتب صاحب نے اپنے ایک فرزند "شاداب" کے نام سے اس ادارے کو موسوم کر کے نہ صرف اس کی بنیاد رکھی بلکہ اسے ایک باوقار شناخت بھی عطاء کی، جو آج تک اپنی خوبیوں کے ساتھ قائم و دائم ہے۔

🏵️ جائے قیام: شروع سے آخر تک محلّہ ابوالبرکات میں ہی سفید مسجد سے مشرق میں چند مکانوں میں رہائش پذیر رہے۔ زیادہ عرصہ تک حمید منزل کے بالائی حصے میں قیام رہا، اسی منزل میں ایک طویل زمانے تک دارالعلوم وقف کا مطبخ تھا، اسی منزل کے کچھ مکانات میں دارالعلوم وقف کے کچھ دیگر اساتذہ کا بھی قیام تھا، باہر کی جانب دارالعلوم وقف کا ایک ڈپو بھی یاد آتا ہے جہاں اساتذہ و طلبہ کو اُس زمانے میں راشن کا کچھ ضروری سامان مثلاً چینی، مٹی کا تیل وغیرہ ملتا تھا۔

🏵️ شخصی خاکہ: کاتب اسرار احمد قاسمی صاحب ایک نہایت سادہ مزاج اور درویش صفت انسان تھے۔ ان کی وضع قطع میں سادگی اور وقار جھلکتا تھا، سر پر چھوٹی سی دوپلی ٹوپی، بدن پر عموماً لنگی اور کرتا، آنکھوں پر عینک اور ٹھوڑی پر سجی ہوئی داڑھی یہی سادہ مگر پُراثر حلیہ تھا جو دیکھنے والوں کے دل میں فوراً جگہ بنا لیتا تھا۔

🏏🤾 کرکٹ سے خصوصی لگاؤ: آپ کو کھیلوں میں بالخصوص کرکٹ سے غیر معمولی شغف تھا۔ یہ شوق محض تماشائی حد تک محدود نہ تھا، بلکہ آپ کرکٹ کی فنی باریکیوں، اصولوں اور نزاکتوں سے بھی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ سرزمینِ دیوبند میں قیام کے دوران دارالعلوم کے بعض نوجوان اساتذہ اور معزز گھرانوں کے ہم عمر علماء پر مشتمل ایک حلقۂ احباب تھا، جو آپ کے مجلسی رفقاء بھی تھے۔ یہی حضرات مل کر ایک ٹیم کی صورت میں اکثر عیدگاہ دیوبند کے قریب اُس میدان میں شام کے وقت جمع ہوتے جہاں آج کل "شہرِ طیّب" آباد ہے۔ اور نہایت شوق و انہماک کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔

ان تمام احباب کے اسمائے گرامی کا احاطہ تو طویل ہو جائے گا، تاہم بطورِ مثال چند نمایاں شخصیات کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ کاتب صاحب کے علمی و سماجی روابط کا اندازہ ہو سکے۔ ان رفقاء میں شیخُ الحدیث و الادب دارالعلوم وقف دیوبند حضرت مولانا، مفتی محمد اسلام قاسمی صاحب مرحوم، جانشین خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب (شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند)، شیخ الحدیث مولانا احمد خضر صاحب، جناب ڈاکٹر عدنان بلیاوی (حفیدِ علامہ ابراہیم بلیاویؒ)، دیوبند کے معروف معالج ڈاکٹر نعمان احمد صاحب، اور شاعرِ انقلاب ڈاکٹر نواز دیوبندی صاحب وغیرہ شامل تھے۔

جب آپ وطن تشریف لاتے تو یہاں بھی کرکٹ کی محفل کو گرما دیتے اور مقامی ٹیم کا حصہ بن جاتے، جس میں ڈاکٹر منظور عالم صاحب (سابق پرنسپل مدرسہ عربیہ مصباح العلوم) حضرت مولانا ضیاء الحق قاسمی صاحب استاذ مدرسہ عربیہ مصباح العلوم اور بھائی قمر الہدیٰ گورکھپور، خاص قابل ذکر ہیں۔ آپ کی فنی بصیرت اور کھیل پر گہری نظر کے باعث کھیل میں ایک خاص لطف اور سنجیدگی پیدا ہو جاتی، جس سے تمام شرکاء بھرپور حظ اٹھاتے۔

🕳️ وضاحت: جنابِ کاتب صاحب اور ان کے احباب و رفقاء کی کرکٹ کھیلنے کی یہ سرگرمی سنہ 1986ء کے بعد ختم ہوگئی تھی، تاہم بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کے تبصرے سننے کا شوق بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے تک بدستور قائم رہا۔


⚛️ راقم کے ذوقِ کتابت کی تشکیل و تحریک: مجھے بخوبی یاد ہے کہ جب کبھی آپ دیوبند سے وطن تشریف لاتے تو اکثر میرے گھر بھی آمد و رفت رہتی۔ اُس وقت میں ابتدائی درجات میں زیرِ تعلیم تھا، اور شوقِ عقیدت میں اپنی کاپیوں کے سرورق پر آپ سے اپنا نام وغیرہ لکھوایا کرتا تھا۔ پھر وہ مرحلہ بھی آیا کہ راقم السطور کو حصولِ علم کی غرض سے دیوبند جانے کا شرف حاصل ہوا۔ زمانۂ طالبِ علمی میں کاتب صاحب کے پاس آنا جانا لگا رہتا، اور میں انہیں بارہا نہایت دلکش انداز میں کتابت کرتے ہوئے دیکھتا۔ ان کی حسین خوشخطی اور فنّی مہارت کو دیکھ کر میرے دل میں بھی کتابت سیکھنے کا شوق اور جذبہ پروان چڑھتا گیا۔ بظاہر یہی معمولی لمحات اور یہ چھوٹی چھوٹی نسبتیں آگے چل کر میری خوش نویسی کے ذوق کی بنیاد بن گئیں۔


🌼 مرجعِ خلائق: گورکھپور کے علاوہ بستی، سنت کبیر نگر، فیض آباد، امبیڈکر نگر، اعظم گڑھ وغیرہ میں آپ کی قرابت داریاں تھیں، وہاں سے طلبہ دیوبند حصولِ علم کے لئے جاتے تو آپ سے ضرور ملاقات کرتے، اور آپ کے اخلاقِ کریمانہ سے ایسے متاثر ہوتے کہ بار بار ملاقات کے متمنی رہتے۔ 

🕳️ خاندانی پس منظر میں بھی ایک دردناک یاد جڑی ہوئی ہے کہ آپ کے چچا محترم، جناب عبدالعزیز صاحب (علیہ الرحمہ) حصولِ تعلیم کی غرض سے دیوبند گئے، مگر اُس زمانے کی مہلک چیچک کی وبا کا شکار ہوکر وہیں مزارِ قاسمی میں آسودۂ خاک ہوگئے۔

🕳️ جنابِ کاتب صاحب نہ صرف یہ کہ مدتوں دیوبند میں مقیم رہے بلکہ بتدریج اسی سرزمین کے ہو کر رہ گئے تھے۔ یکم جنوری 2025ء کی صبح ان کے انتقال کی اندوہناک خبر موصول ہوئی، جس نے دل کو مغموم کر دیا۔ اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَیْهِ رَاجِعُون۔


🏵️ رحلتِ جانکاہ: وفات سے تقریباً چار ماہ قبل وہ عارضۂ مرض میں مبتلا ہوئے اور بالآخر سرطان جیسے موذی مرض نے انہیں آ لیا۔ یکم جنوری 2025ء بروز چہار شنبہ سحری کے وقت وہ داعئ اجل کو لبیک کہہ کر جوارِ رحمت میں پہنچ گئے۔ نمازِ ظہر کے بعد احاطۂ مولسری میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم، حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم نے نمازِ جنازہ پڑھائی، اور بعد ازاں آپ کو شیخ الہند لائبریری کی مغربی سمت واقع قبرستانِ انصاریان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔


⚛️ پس ماندگان: اللّٰہ تعالیٰ نے کاتب صاحب کو سات بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ تمام فرزندانِ گرامی کسبِ حلال میں مصروف ہیں اور بحمد اللّٰہ اپنی بنیادی دنیوی ضروریات کی تکمیل کے لئے باوقار انداز میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔


🌼 بلاشبہ کاتب اسرار صاحب ایک شریف النفس، محنتی، امانت دار اور مخلص انسان تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء کرے، اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔


Comments

Popular posts from this blog

قومی ترانہ (راشٹریہ گان)

جادو برسرِ جادوگر

اُمُّ الصّبیان، بچوں کا جان لیوا مرض