سفرِ گجرات
سورت و احمد آباد اور اسلام پورہ کی سیر
نئے سفر کی لذتوں سے جسم و جاں کو سر کرو
سفر میں ہوں گی برکتیں سفر کرو سفر کرو
مورخہ 27 اپریل 2026ء، بروز پیر، صبح دس بجے اپنی عارضی قیام گاہ (مرکز المعارف، جوگیشوری ویسٹ) سے روانگی عمل میں آئی اور بذریعہ لوکل ٹرین ساڑھے گیارہ بجے ممبئی سینٹرل اسٹیشن پر حاضری ہوئی۔ وہاں میرے نہایت مخلص رفیق حضرت مولانا محمد اسلم قاسمی صاحب نے پُرتپاک استقبال فرمایا۔ بعد ازاں وہیں سے قدرے فاصلہ پیدل طے کرتے ہوئے ناگپاڑہ کے معروف "بوستاں ہوٹل" لے گئے، جہاں نہایت عمدہ اور پرتکلف انداز میں ناشتہ کرایا۔ اس کے بعد ایک ذاتی ضرورت کے پیشِ نظر ایک صاحب سے ملاقات مقصود تھی، چنانچہ مولانا بذاتِ خود ساتھ گئے اور ملاقات کا اہتمام فرمایا۔ نصف گھنٹے کے وقفہ کے بعد وہاں سے فراغت ہوئی تو مولانا کے معزز دوست جناب اطہر خان صاحب کے دفتر پہنچے، جہاں چند لمحے استراحت کا موقع ملا۔
اسی دوران ظہر کی اذان کی دلنشیں صدا بلند ہوئی، چنانچہ قریب ہی واقع "مہندی مسجد" میں حاضر ہوکر باجماعت نماز ادا کی گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد ناگپاڑہ کے مشہور "عربیہ ہوٹل" سے حاصل کردہ لذیذ بریانی بطورِ ظہرانہ تناول کی گئی، جس کے بعد چائے نوشی کی محفل بھی سجی۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے سہ پہر کے تین بج گئے۔
چونکہ آئندہ سفر کے لئے ممبئی سینٹرل اسٹیشن پہنچنا ضروری تھا، اس لئے دفتر کے ایک کارکن کے ذریعے وہاں پہنچایا گیا۔ قبل ازیں وندے بھارت ٹرین کا ٹکٹ حاصل کیا جاچکا تھا، چنانچہ اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گئے۔ مقررہ وقت (3:45) پر ٹرین روانہ ہوئی۔ ٹکٹ میں کیٹرنگ چارج شامل ہونے کے باعث ٹرین کے چلتے ہی خدّامِ خدمت متحرک ہوگئے، مسافروں کی نشستوں پر پہلے سے پانی کی بوتلیں موجود تھیں، اس کے بعد ایک ٹرے میں مختلف اشیائے خوردنی، مثلاً سموسہ، فروٹی جوس اور چائے پیش کی گئی۔
سفر خوش اسلوبی سے جاری رہا، حتیٰ کہ شام 6:45 بجے سورت ریلوے اسٹیشن پر پہنچے، جہاں میرے برادرِ محترم کے قرابت دار (جناب ضمیر احمد صاحب) نے نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا اور مرحبا کہتے ہوئے اپنی رہائش گاہ (محلہ اُن پاٹیا، مجورا تعلقہ، مسجد اسماعیل کے قریب) لے گئے، جہاں قیام و آرام کا انتظام فرمایا۔
سورت _ ایک جھلک
تاریخی حیثیت: سورت صدیوں پرانا شہر ہے جو مغل دور میں ایک اہم بندرگاہ اور عالمی تجارتی مرکز رہا۔ یہاں انگریز، ڈچ اور پرتگالی تاجروں کی آمد و رفت نے اسے بین الاقوامی اہمیت بخشی، جبکہ سورت قلعہ اور دیگر آثار قدیمہ اس کی شاندار تاریخ کے گواہ ہیں۔
جغرافیائی حیثیت: یہ شہر دریائے تاپتی کے کنارے اور بحیرۂ عرب کے قریب واقع ہے، جو اسے قدرتی طور پر ایک اہم تجارتی مقام بناتا ہے۔ ممبئی اور احمد آباد کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے اس کی معاشی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ثقافتی حیثیت: سورت ایک کثیر الثقافتی اور زندہ دل شہر ہے، جہاں مختلف قومیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں کے تہوار، زبان (گجراتی) اور لذیذ اسٹریٹ فوڈ اسے منفرد پہچان دیتے ہیں، جبکہ ہیرے اور ٹیکسٹائل کی صنعت نے اسے "ڈائمنڈ سٹی" اور "سلک سٹی" کے لقب سے مشہور کیا ہے۔
خلاصہ: سورت ایک ایسا شہر ہے جہاں قدیم تاریخ، جغرافیائی اہمیت اور جدید تجارتی ترقی خوبصورتی سے یکجا ہو گئی ہیں۔
خیر! سورت میں ایک روزہ قیام و استراحت کے بعد مورخہ 29 اپریل، بروز بدھ، صبح دس بجے بذریعہ ریل گاڑی (ٹرین) احمد آباد کے لئے روانگی عمل میں آئی۔ سفر نہایت خوشگوار انداز میں طے ہوا اور سہ پہر تین بجے احمد آباد پہنچنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہاں اپنے ہم وطن نہایت مخلص رفیق، دنیائے عملیات کے ممتاز، نامور اور عاملِ کامل، جناب قاری ارشاد احمد نعمانی صاحب کے دولت کدہ، واقع محلہ شاہ عالم میں قیام پذیر ہوا۔ بدھ کا بقیہ دن اور جمعرات کا پورا دن اسی پُرسکون اور باوقار ماحول میں بسر ہوا، جہاں علمی و روحانی گفتگوؤں نے قیام کو مزید بامقصد اور یادگار بنا دیا۔
تعارفِ شہرِ احمد آباد — ایک وقیع و دلنشیں مرقع
تاریخی بنیاد اور تعمیری شان: احمد آباد برِصغیر ہند کا ایک جلیل القدر، تاریخی اور ہمہ جہت عظمت کا حامل شہر ہے، جو دریائے سابرمتی کے پُرسکون و دلآویز کنارے اپنی قدامت کے وقار اور ترقی کی درخشندگی کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ سنہ 1411ء میں سلطان احمد شاہ کے دستِ مبارک سے آباد ہونے والا یہ شہر عہدِ سلاطین میں گجرات کا پایۂ تخت اور علم و حکمت، صنعت و تجارت اور سیاست و تمدن کا مرکزِ نگاہ بنا رہا۔ اسی صنعتی عروج، خصوصاً کپاس و ٹیکسٹائل کی فراوانی کے باعث اسے بجا طور پر "بھارت کا مانچسٹر" کہا گیا، جہاں کارخانوں کی چمنیوں سے اٹھتا ہوا دھواں محنت و ہنر کی ایک زندہ داستان سناتا تھا۔
جغرافیائی اہمیت اور جدید ترقی
یہ شہر جغرافیائی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، سابرمتی کی روانی اور زمین کی زرخیزی نے یہاں کی حیات و معیشت کو دوام بخشا، جبکہ زمانے کے تغیر کے ساتھ سابرمتی ریور فرنٹ جیسی جدید تعمیرات نے اس کے شہری حسن کو نئی جہت عطا کی۔ احمد آباد نہ صرف صنعتی قوت کا مظہر ہے بلکہ تہذیبی و روحانی اقدار کا بھی گہوارہ ہے، جس کا بین ثبوت 2017ء میں یونیسکو کی جانب سے "ورلڈ ہیریٹیج سٹی" کا اعزاز ہے۔
روحانیت اور صوفیانہ ورثہ
روحانیت کے افق پر حضرت شاہ عالم بن سید برہان الدین رحمۃ اللّٰہ علیہ کا وجود ایک درخشندہ ستارے کی مانند ہے، جن کی درگاہ آج بھی مرکزِ عقیدت و مرجعِ خلائق ہے، جہاں دلوں کو سکون اور روحوں کو تازگی نصیب ہوتی ہے۔ اسی طرح سرخیز روضہ، جو حضرت شیخ احمد خٹو رحمۃ اللّٰہ علیہ سے منسوب ہے، اپنی پُرسکون فضا، وسیع تالاب اور دلنشیں عمارتوں کے سبب فنِ تعمیر اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔
تاریخی عمارات اور فنِ تعمیر
تاریخی و معماری ورثے میں سید مسجد کی نادر و نایاب جالیاں، خصوصاً "درخت کی جالی"، فنِ سنگ تراشی کا شاہکار ہیں، جبکہ جامع مسجد احمد آباد اپنے وسیع صحن، حسین ستونوں اور سادہ مگر پُر وقار طرزِ تعمیر کے باعث اسلامی فنِ معماری کی اعلیٰ مثال ہے۔ بھدرہ قلعہ اپنی فصیلوں، دروازوں اور شاہی محلات کے ساتھ ماضی کی سیاسی و عسکری عظمت کا امین ہے، اور موتی شاہی محل مغل دور کی نزاکت و لطافت کی یادگار کے طور پر آج بھی اپنی شان برقرار رکھے ہوئے ہے۔ قدیم شہر کے بارہ دروازے، جن میں دہلی دروازہ اور جمال پور دروازہ خاص طور پر معروف ہیں۔ اس کے دفاعی استحکام اور تجارتی وسعت کی گواہی دیتے ہیں۔
اہم شخصیات اور فکری اثرات
علاوہ ازیں، یہ شہر عظیم شخصیات کا مسکن بھی رہا ہے، مہاتما گاندھی نے اسی سرزمین پر سابرمتی آشرم قائم کر کے آزادی کی تحریک کو نئی روح بخشی اور عدمِ تشدد کا عالمگیر پیغام عام کیا۔
اختتامیہ: احمد آباد ایک ایسا شہر ہے جہاں تاریخ کے گہرے نقوش، تہذیب کی لطافت، صنعت کی بے پناہ قوت اور جدید ترقی کی درخشاں جلوہ گری بیک وقت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ شہر نہ صرف گجرات کا قلبِ تپندہ ہے بلکہ پورے ہندوستان کے ثقافتی و اقتصادی افق پر ایک روشن و تابندہ ستارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کی زیارت گاہیں، مساجد، محلات اور قلعے اس کے ماضیِ شکوہ بار کے امین ہیں، جو نہ صرف تاریخ کو زندہ رکھتے ہیں بلکہ اس کی تہذیبی و روحانی شناخت کو بھی پوری آب و تاب کے ساتھ اجاگر کرتے ہیں۔ یہ تمام مقامات عظمتِ رفتہ اور حسنِ تعمیر کا ایسا دلنشیں امتزاج پیش کرتے ہیں جو ہر دیکھنے والے کو فکر و نظر کی ایک نئی دنیا سے آشنا کر دیتا ہے۔
بارگاہِ مرشد میں نیاز مندانہ حاضری
مورخہ یکم مئی 2026ء، بروز جمعہ، اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا قاری عبد الستار صاحب (شیخ الحدیث، جامعہ امداد العلوم، وڈالی و جامعہ تحفیظ القرآن اسلام پورہ، گجرات) کی زیارت و ملاقات کی سعادت حاصل کرنے کے لیے صبح 9:30 بجے بذریعہ کار حضرت کے وطن اسلام پورہ (مان گڑھ، تعلقہ دراملی) کی جانب روانگی ہوئی۔ اس بابرکت سفر میں میرے ساتھ احمد آباد کے نہایت مخلص میزبان، جناب قاری ارشاد احمد نعمانی صاحب بھی شریک رہے۔ سفر بحسن و خوبی طے ہوا اور ٹھیک بارہ بجے ہم مدرسہ تحفیظ القرآن، اسلام پورہ (مان گڑھ) پہنچ گئے۔ ابھی ڈرائیور گاڑی پارک کرنے میں مصروف ہی تھے کہ منبعِ فیوض و برکات، مقتدائے اہلِ معرفت، رہبرِ کامل، شیخِ طریقت (حضرت مولانا، قاری عبد الستار صاحب مدظلہ العالی) بنفسِ نفیس گھر سے تشریف لے آئے، یوں یکایک دیدارِ مرشد سے قلب و نظر کو ایک روحانی سرور اور بے ساختہ مسرت نصیب ہوئی۔
ہر چہ آید بگزرد، در راہِ عشق
منزلِ مقصود ہست، آخر سفر
حضرت نہایت شفقت کے ساتھ ہمیں اپنے ہمراہ مدرسہ کے مہمان خانہ میں لے گئے، جہاں پرتکلف ضیافت اور چائے نوشی سے نوازا۔ اسی اثنا میں اذانِ جمعہ کا وقت ہوگیا، چنانچہ ہم سب مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ ما شاء اللّٰہ مسجد نہایت وسیع، خوش نما اور دیدہ زیب طرزِ تعمیر کا شاہکار تھی، اس کا کشادہ ہال بغیر ستون کے اس قدر خوبصورتی سے ترتیب دیا گیا تھا کہ بیک وقت کثیر تعداد میں نمازیوں کی گنجائش موجود تھی۔ اندرونی فضا میں سکون، وقار اور روحانیت کی ایسی کیفیت تھی کہ دل خودبخود خشوع و خضوع کی طرف مائل ہو جاتا تھا۔ ایئر کنڈیشنر کے عمدہ انتظام نے اسے مزید دلکش بنا دیا تھا، اور ہر گوشہ حسنِ ترتیب و نظافت کی گواہی دے رہا تھا۔
مسجد میں درجۂ حفظ و تجوید اور درسِ نظامی (اول تا دورۂ حدیث) کے طلبہ و اساتذہ اذانِ جمعہ سے قبل ہی سفید زرق و برق لباس میں ملبوس نہایت سلیقہ و نظم کے ساتھ صف بستہ بیٹھے تھے، جبکہ بعض حضرات سنتوں اور اذکار میں مشغول نظر آئے، ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا نورانی مخلوق کے درمیان آگیا ہوں۔ خطبۂ جمعہ سے قبل علیا کے ایک فاضل استاذ نے "اسلام دینِ فطرت" کے عنوان پر نہایت جامع اور مؤثر خطاب فرمایا، جس نے حاضرین کے اذہان و قلوب کو تازگی بخشی۔ اس کے بعد نمازِ جمعہ باجماعت ادا کی گئی۔
مدرسہ کی عمارت ایک وسیع و عریض اراضی پر نہایت منظم انداز میں تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد کے مشرق، شمال اور جنوب کی سمتوں میں طلبہ کی رہائش گاہیں اور درسگاہیں قائم ہیں، جب کہ درمیان میں کھیل کود اور تفریح کے لیے ایک کشادہ اور صاف ستھرا احاطہ موجود ہے۔ اس مرکزی عمارت سے کچھ فاصلے پر مہمان خانہ، مطبخ اور ایک اضافی درسگاہ بھی واقع ہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہی حصہ مدرسہ کی ابتدائی تعمیر پر مشتمل تھا۔
نمازِ جمعہ اور ظہرانہ کے درمیانی وقفہ میں احقر نے اپنے اذکار کے دوران پیش آنے والی کیفیات کا اظہار کیا۔ حضرت نے نہایت توجہ اور غور سے سماعت فرمانے کے بعد مناسب اصلاح و ہدایات سے نوازا، اور ساتھ ہی "پاسِ انفاس" کا طریقہ بھی تعلیم فرمایا۔
بسیار سفر باید تا پختہ شود خامی
صوفی نشود صافی تا درنکشد جامی
(ترجمہ: کچے پن کو پختگی میں بدلنے کے لیے بہت سے سفر کرنے پڑتے ہیں، اور صوفی اس وقت تک صفا (پاک) نہیں ہوتا جب تک جامِ عشق نہ پی لے -
اس کے بعد حضرت نے نہایت خلوص کے ساتھ ظہرانہ میں پُرتکلف ضیافت کا اہتمام فرمایا۔ کھانے سے فراغت کے بعد میں نے ادباً عرض کیا کہ حضرت! یہ آپ کے آرام کا وقت ہے اور ہمیں بھی واپسی کا قصد ہے، لہٰذا اجازت مرحمت فرمائیے۔ ادھر حضرت کو بھی کہیں تشریف لے جانا تھا، چنانچہ پیر و مرشد نے نہایت شفقت کے ساتھ دعاؤں سے نواز کر رخصت فرمایا۔ بوقت 2:30 بجے ہم وہاں سے روانہ ہوئے اور شام 4:50 بجے بحمد اللّٰہ احمد آباد پہنچ کر اپنے میزبان رفیق کی رہائش گاہ پر حاضری ہوئی۔
ممبئی واپسی: راقم السطور نے جن مقاماتِ زیارت و حاضری کا قصد کیا تھا، اُن سے فراغت تو 2 مئی ہفتہ کے روز ہی حاصل ہوچکی تھی، لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ واپسئِ ممبئی کے لیے ریل کی نشست میسر نہ آسکی، جس کے باعث مزید دو روز قیام ناگزیر ٹھہرا۔ بالآخر انتظارِ طویل کے بعد، بروزِ منگل مؤرخہ 5 مئی، شتابدی ایکسپریس کے ذریعہ سہ پہر کے وقت 3 بجکر 15 منٹ پر سفر کا آغاز ہوا، اور بوقت شب 10 بجے مرکزُ المعارف ممبئی میں بحمدِ اللّٰہ خیریت کے ساتھ (اپنے محبین و مخلصین کے درمیان) حاضری نصیب ہوئی۔ یوں سفرِ گجرات اپنے حسنِ اختتام کو پہنچا۔ ایک ایسا سفر جو یادوں کے افق پر ایک خوشگوار نقش ثبت کر گیا۔ جس کی بازگشت دل کے نہاں خانوں میں دیر تک مترنّم رہے گی اور جس کی یادیں لوحِ خاطر پر نقشِ دوام بن کر جلوہ گر رہیں گی۔
سفر کردم ز خاکِ گجرات با دلِ شاداں
نقوشِ یادگاری ماند در لوحِ دل و جاں
رهِ دور و دراز و شوقِ منزل ہمنشیں بود
رسیدم عاقبت بر مقصدِ خویش،ایزدِ منّان







Comments
Post a Comment