ایک یادگار روداد سفر
تحریر: ابوالحسنات قاسمی
ایک یادگار علمی و ادبی تقریب کی روداد
تقریبِ رسمِ اجراء "دیوبند کی یادیں"
میرے دیرینہ یار، جامعۃ الرشاد، اعظم گڑھ میں سنہ 1994ء کے رفیقِ تدریس و ہم کار، اور برجستہ خامہ فرسا، فی البدیہہ و برجستہ گو نیز طبع زاد شاعر مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب نے حال ہی میں اپنی یادوں کے نہاں خانوں سے ایک گراں قدر کتاب ترتیب دی ہے، جس کا نام ہے: "دیوبند کی یادیں"۔
ماہِ جون 2026ء میں، جب یہ کتاب ابھی مراحلِ کتابت سے گزر رہی تھی، موصوف نے ازراہِ محبت و التفات مجھ سے فرمایا تھا کہ کتاب کی رسمِ اجراء کے موقع پر آپ کی حاضری ناگزیر ہے۔ چنانچہ اس وقت ہی سے اس تقریب میں شرکت کا ایک وعدہ سا دل میں ثبت ہوگیا تھا۔
ماہِ جولائی کے دوسرے عشرے میں کتاب کے نام ہی سے ایک "واٹس ایپ گروپ" تشکیل دیا گیا، جس کے ذریعے 22 اگست 2026ء بروز ہفتہ منعقد ہونے والی تقریبِ رسمِ اجراء کی اطلاع، احباب کو شرکت کی دعوت اور افراد سازی کا سلسلہ شروع ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پرانے رفقائے درس و تدریس سے ملاقات، گزشتہ ایام کی یادوں کی بازآفرینی اور بیتے ہوئے زمانے کے نقوش کو تازہ کرنے کے لئے ایسی مجالس اور تقریبات کا انعقاد غنیمت ہے۔ بقولِ حکیم:
هر کسی کوٗ دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
چنانچہ 3 اگست کو ایک بار پھر بطورِ یاد دہانی پیغام موصول ہوا کہ احباب شرکت کی حتی المقدور کوشش فرمائیں، اور چاہیں تو اپنے ہمراہ ایک دو رفقاء کو بھی لے آئیں۔
راقم السطور نے بھی لبیک کہتے ہوئے شرکت کی ہامی بھر لی۔
ادھر واٹس ایپ پر "دیوبند کی یادیں پروگرام" کے عنوان سے قائم کردہ گروپ میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتِ حال سے آگاہی اور تازہ ترین اطلاعات کی ترسیل کا سلسلہ برابر جاری تھا۔ جس کے ذریعے شرکائے تقریب کی تعداد، آمد کی خبریں اور دیگر انتظامی تفصیلات پہنچ رہی تھیں۔ شریک ہونے والے احباب سے تعارف بھی طلب کیا گیا۔ چنانچہ ایک سے بڑھ کر ایک اہلِ علم و قلم نے اظہارِ شرکت کے ساتھ اپنے تعارف نامے ارسال فرمائے؛ جنہیں دیکھ کر بے ساختہ قرآنِ کریم کی یہ آیت یاد آتی تھی: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾
ہر تعارف اپنے اندر علم و فضل کی ایک نئی جھلک لیے ہوئے تھا۔ اس صورتِ حال نے تقریب میں شرکت کے شوق کو اور بھی مہمیز کردیا تھا اور انتظار کی گھڑیاں طویل تر محسوس ہونے لگی تھیں۔
انتظامی نشست: بالآخر 9 اگست کو ماہنامہ پیغام، پورہ معروف کے دفتر میں حضرت مولانا شبیر احمد مشتاق معروفی قاسمی صاحب_ شیخ الحدیث جامعہ اُمّ حبیبہ، پورہ معروف، کی سرپرستی میں چند مخصوص رفقائے کار کے ساتھ ایک مشاورتی نشست منعقد ہوئی۔ اس نشست میں پروگرام کے انتظامی امور کو آخری شکل دی گئی اور شرکائے تقریب کی مختلف حیثیتوں کے اعتبار سے درجہ بندی عمل میں آئی کہ کون حضرات خطابات فرمائیں گے، کون مہمانانِ خصوصی ہوں گے، کن حضرات کے ذمے استقبالیہ کی ذمہ داریاں ہوں گی اور دیگر انتظامی امور کس طرح انجام دیئے جائیں گے؟؟
رہی 'نظامت کی مسند' تو پروگرام کے محرّک اور خالق و روحِ رواں (بلکہ اس کے دولہا)، حضرت مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب نے اپنے لئے مخصوص کرلی تھی۔
راقم السطور کو بھی؛ حسبِ معمولِ دینی و اسلامی مجالس کے طرۂ رائج کے مطابق، مہمانانِ خصوصی کی فہرست میں شامل فرمایا گیا۔ اس قدرِ افزائی اور حسنِ ظن پر مؤلفِ محترم کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔
شرکائے پروگرام میں علماء و اہلِ علم کی ایک قابلِ ذکر تعداد تھی؛ جن میں بیشتر حضرات کا تعلق مئو اور اعظم گڑھ کے نواح و مضافات سے تھا، جب کہ بستی اور گورکھپور سے بھی چند احباب نے شرکت فرمائی۔ یہ تمام اطلاعات اسی تشکیل یافتہ گروپ کے ذریعے وقتاً فوقتاً موصول ہوتی رہیں؛ اور یوں تقریب سے متعلق شوق و اشتیاق میں ہر آن اضافہ ہوتا رہا۔
انتظار کی گھڑی تمام ہوئی: بالآخر انتظارِ بسیار کے بعد وہ ساعتِ سعید بھی آپہنچی جس کا مدت سے انتظار تھا۔
عزمِ سفر اور رفقائے سفر: بروز جمعرات، 20 اگست، علی الصبح حضرت مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب کا فون آیا۔ نہایت مشفقانہ اور مشاورتی انداز میں فرمایا کہ اپنے ہمراہ دو چار علماء کرام کو بھی لیتے آئیے، یہ دعوت گویا شوقِ شرکت کو مہمیز دینے والی تھی۔
چنانچہ عزیزم الحاج عبد الرحمٰن صاحب؛ جن کی گاڑی اکثر سفری ضرورتوں کے لیے مستعارِ خدمت رہتی ہے، نیز برادرم مولانا جمیل الرحمٰن قاسمی صاحب اور محترم جناب الحافظ عبدالرحیم صاحب سے 22 اگست کو ایک علمی و ادبی تقریب میں شرکت کے لئے پورہ معروف جانے کا ذکر کیا تو تینوں حضرات نے بلا تأمل آمادگی ظاہر کردی۔ یوں رفقائے سفر بھی میسر آگئے اور عزمِ سفر کو بھی عملی صورت نصیب ہوگئی۔
سفر کی روانگی: حسبِ ضابطۂ سفر، جناب الحافظ عبدالرحیم صاحب کو بہ اتفاقِ رائے "امیرِ سفر" منتخب کیا گیا۔ ان کی نگرانی و سرکردگی میں بوقت دو بجے ہمارا مختصر سا قافلہ عازمِ سفر ہوا۔ دورانِ سفر سیاسی، سماجی اور معاشی موضوعات سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا سلسلہ جاری رہا۔ گفتگو ایسی دلچسپ اور پُرلطف رہی کہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کب طے ہوگئی، احساس ہی نہ ہوا۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم پہلے مئو شہر پہنچے،م؛ جہاں ایک صاحب سے ملاقات پہلے سے طے تھی۔ ملاقات ہوئی، متعلقہ معاملے کو بحمد اللّٰہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا، پھر مختصر سی چائے نوشی سے فراغت حاصل کی اور وہاں سے مقامِ پروگرام کی جانب روانہ ہوگئے۔
جامعہ امِّ حبیبہ میں: بالآخر وقتِ عصر ہم جامعہ امِّ حبیبہ، پورہ معروف پہنچ گئے۔ یہ وہی تعلیمی ادارہ ہے جہاں اس پروگرام کا انعقاد ماہنامہ "پیغام"، پورہ معروف کی جانب سے کیا گیا تھا۔ جامعہ کی کشادہ و پُرفضا عمارت، وسیع میدان، بڑے ہال اور اطراف کے دالان اس علمی اجتماع کے لئے نہایت موزوں معلوم ہوتے تھے۔ مقامِ تقریب کے قریب پہنچتے ہی حسنِ انتظام کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ اطراف میں دور و نزدیک سے آنے والے مہمانوں کی رہنمائی اور سہولت کے لئے متعدد رضاکار مستعد کھڑے تھے، جو آنے والے احباب کی رہنمائی اور ضروریات کی تکمیل میں سرگرمِ عمل تھے۔
ہم مقامِ تقریب پر پہنچے تو پہلی نشست کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا اور کتاب "دیوبند کی یادیں" نیز مؤلفِ محترم حضرت مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب کے علمی و ادبی خدمات کے تذکرے کا سلسلہ جاری تھا۔ جامعہ کے صحن، دالانوں اور اطراف میں قریب و بعید سے تشریف لائے ہوئے علماء؛ فضلاء اور اہلِ علم کی ایک کہکشاں نظر آ رہی تھی۔ موسم اگرچہ خاصا گرم تھا؛ تاہم حاضرین کی سہولت کے لئے ایر کولروں کا مناسب انتظام کیا گیا تھا، جب کہ روشنی کا بھی خاطر خواہ بندوبست تھا۔
انتظام و انصرام کی وسعت، سلیقۂ ترتیب اور بالخصوص پرتکلف ضیافت نے دل کو مسرور کردیا۔ مہمانوں کی خاطر مدارات سے اندازہ ہوتا تھا کہ منتظمین نے محض ایک پروگرام منعقد کرنے پر اکتفاء نہیں کیا؛ بلکہ مہمانوں کی راحت و آسائش کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے۔ غرض، ہر طرف ایک ایسی اپنائیت اور گرم جوشی محسوس ہوتی تھی جو کسی بامقصد علمی اجتماع ہی کا خاصہ ہوسکتی ہے۔
حسبِ دستور تلاوتِ کلامِ پاک سے تقریب کا آغاز ہوا، اس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں گلہائے عقیدت، (نذرانۂ نعت) پیش کیا گیا۔ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ نشستِ اوّل، جو بعد نمازِ عصر منعقد ہوئی؛ کی صدارت حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرحمٰن ساجد الاعظمی صاحب نے فرمائی، جب کہ نشستِ ثانی، جو نمازِ مغرب کے بعد منعقد ہوئی، کی صدارت حضرت مولانا جمال احمد ندوی صاحب؛ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، نے فرمائی۔
دونوں نشستوں میں مختلف اہلِ علم نے اپنے اپنے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا اور کتاب "دیوبند کی یادیں" کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ مؤلفِ محترم کی علمی و ادبی خدمات، دیوبند سے ان کی دیرینہ وابستگی اور کتاب کے مشمولات پر اہلِ علم کی آراء نے مجلس کی علمی وقعت میں مزید اضافہ کردیا۔ مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے متعدد علماء و اہلِ علم کو ان کی علمی، تدریسی اور دعوتی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
بعض مدعو علماء کرام کسی عذر کے باعث بنفسِ نفیس شرکت نہ کرسکے؛ تاہم انہوں نے اپنے خیرسگالی اور محبت بھرے پیغامات ارسال فرمائے؛ جنہیں مجلس میں پڑھ کر سنایا گیا۔ یوں جو حضرات بہ نفسِ نفیس شریک نہ ہوسکے، ان کی علمی و قلبی شرکت بھی کسی نہ کسی صورت میں مجلس کا حصہ بن گئی۔
دورانِ پروگرام وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ بالآخر ساڑھے چھ بجے نمازِ مغرب کے لئے وقفہ ہوا۔ نماز سے فراغت کے فوراً بعد نشستِ ثانی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا اور مقررین نے اپنے اپنے موضوعات پر اظہارِ خیال فرمایا۔ مجلس اپنی تمام تر علمی و ادبی رعنائیوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہی، یہاں تک کہ رات کے تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سرپرستِ تقریب حضرت مولانا شبیر احمد مشتاق معروفی صاحب نے نہایت ناصحانہ اور دل نشیں گفتگو فرمائی، جس کے بعد دعا ہوئی اور یہ یادگار علمی و ادبی اجتماع بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
دور دراز اور بیرونِ شہر سے تشریف لانے والے مہمانانِ گرامی کے لئے طعام و قیام کا بھی انتظام تھا۔ نماز سے فراغت کے بعد دسترخوان پر حاضری ہوئی۔ ماشاء اللّٰہ، کسی صاحبِ اخلاص نے نہایت محبت اور سلیقے سے لذیذ کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ کھانے سے فراغت کے بعد، تقریباً پونے دس بجے ہم لوگ مبارک پور کے لئے روانہ ہوئے۔ اس سفر میں مولانا افتخار احمد قاسمی صاحب کی رفاقت بھی حاصل رہی؛ جس سے سفر کی لذت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
مبارک پور میں قیام: مبارک پور پہنچے تو ہمارے کرم فرما دوست جناب زبیر بھائی، (جو ٹائل کے کاروبار سے وابستہ ہیں،) نے پہلے ہی قیام و طعام کا خاطر خواہ انتظام کر رکھا تھا۔ ان کی محبت و خلوص کا یہ عالم تھا کہ قیام کے لئے آرام دہ کمرہ اور بستر ہی کا انتظام نہ کیا، بلکہ پرتکلف کھانے کا بھی اہتمام فرمائے رکھا تھا۔ چنانچہ بادلِ نخواستہ ایک مرتبہ پھر دسترخوان پر حاضری دینی پڑی!
کھانے سے فراغت کے بعد انہوں نے ایرکنڈیشنڈ کمرے میں آرام کے لئے بستر لگا دیا اور ہم نے سفر کی تھکن اتارنے کے لئے استراحت کی۔
23 اگست بروز شنبہ (اتوار) صبح نمازِ فجر کے بعد مسجد میں ایک اور شناسا سے ملاقات ہوگئی۔ ہمارے میزبان اور اس شناسا، دونوں احباب نے نہایت محبت کے ساتھ پرتکلف ناشتے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ناشتہ، باہمی گفتگو اور احوال پرسی سے فراغت کے بعد تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہم نے گھر کی راہ لی اور بحمدہ تعالیٰ دس بجے گھر پہنچ گئے۔
یوں ایک مختصر سا سفر، جو بظاہر محض ایک علمی تقریب میں شرکت کے لئے تھا، علم و ادب کی صحبت، قدیم رفاقتوں کی تجدید، اہلِ علم کی ملاقات، محبتوں کی گرمی اور احباب کی میزبانی کے باعث ایک خوش گوار اور یادگار سفر بن گیا؛ ایسا سفر جس کی خوشبو مدت تک ذہن و دل میں بسی رہے گی۔
باز آمدم بر سرِ موضوع: بالآخر وہ مرحلہ بھی آیا جس کے لئے یہ تمام اہتمام و انصرام کیا گیا تھا، یعنی مصنّفِ محترم کی گراں قدر تصنیف "دیوبند کی یادیں" کی رسمِ رونمائی۔
کتاب کی رونمائی کے ساتھ ہی ہر طرف سے مصنف کتاب، حضرت مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب کے لئے تحسین و توصیف کے کلمات سنائی دینے لگے۔ اہلِ علم و قلم نے اپنے اپنے انداز میں کتاب کی قدر و قیمت، مؤلف کے ذوقِ مطالعہ، قوتِ مشاہدہ اور یادوں کو محفوظ کرنے کی سعی کو سراہا۔
اور یہ تعریف و توصیف بجا بھی تھی، آخر مصنف کی اپنی زبان سے اپنے کمالات کا تذکرہ کرنے کے بجائے اگر اہلِ علم و فضل کی زبان سے کسی کی خوبیوں کا اعتراف ہو تو اس کی وقعت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ اسی لئے فارسی کا یہ مصرعہ بے ساختہ یاد آتا ہے
خوشتر آن باشد کہ سِرّ دلبران
گفتہ آید در حدیثِ دیگران
یہ تقریب محض ایک کتاب کی رونمائی کا موقع نہ تھی، بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دیوبند کے بیتے ہوئے ایام؛ رفاقتوں کی خوشبو؛ درس گاہوں کی یادیں اور ماضی کے وہ روشن نقوش؛ جو وقت کی گرد میں کہیں دب گئے تھے؛ ایک بار پھر زندہ ہوکر سامنے آگئے ہوں۔
یہی تو کتابوں کا اصل کمال ہے کہ وہ محض واقعات کو محفوظ نہیں کرتیں؛ بلکہ گزرے ہوئے زمانوں کو زندہ کردیتی ہیں۔ "دیوبند کی یادیں" بھی اسی نوع کی ایک کاوش ہے؛ جس میں مؤلف نے اپنے عہدِ دیوبند کے علمی و فکری ماحول، اساتذہ و رفقاء اور اس دور کی حسین یادوں کو الفاظ کا جامہ پہنا کر آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔
مقررین و موضوعات: ہر دو نشستوں میں جن ممتاز علماء و اہلِ قلم نے دارالعلوم دیوبند کی خدمات، اکابرِ دیوبند، تاریخ و تحریکِ آزادی، دیوبند کی علمی و ادبی یادوں، فضلائے دیوبند کی ذمہ داریوں اور "دیوبند کی یادیں" کے تعارف و تبصرے جیسے متنوع موضوعات پر اظہارِ خیال فرمایا۔
کچھ کتاب کے بارے میں۔
نام کتاب: دیوبند کی یادیں
مصنف: انصار احمد معروفی قاسمی
ضخامت: 288 صفحات۔
یہ کتاب 1982ء سے 1986ء تک دارالعلوم دیوبند میں گزارے گیے طالبِ علمی کے یادگار لمحات، اساتذۂ کرام، رفقائے درس، تعلیمی و تربیتی ماحول اور دیوبند کی علمی و روحانی فضا کی دلنشیں یادوں کا حسین مرقع ہے۔
کتاب کا وقیع مقدمہ مولانا محمد اسعد الاعظمی صاحب نے تحریر کیا ہے؛ جس میں دارالعلوم دیوبند کی لازوال یادوں اور اس کتاب کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
مصنف نے تقریباً اکتالیس سال بعد ان یادوں کو قلم بند کرنے کی وجہ دارالعلوم سے بے پناہ محبت، ایامِ طالب علمی کی تازگی اور بڑھاپے میں ماضی کی یادوں سے بڑھتی ہوئی وابستگی کو قرار دیا ہے۔
کتاب میں سفرِ دیوبند، داخلہ، درس و تدریس، اساتذہ، احباب، مسجد، مطبخ، بازار، تفریحی مقامات، وفات پا جانے والے رفقاء اور دارالعلوم سے جدائی کے جذبات سمیت طالبِ علمی کی بے شمار یادیں نہایت دلنشیں انداز میں محفوظ کی گئی ہیں۔
دارالعلوم دیوبند سے محبت رکھنے والوں اور قدیم رفقائے درس کے لئے یہ کتاب ایامِ طالب علمی کو تازہ کرنے اور علمی و روحانی فضا کا لطف دوبارہ محسوس کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
تتمّہ: مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب ایک ہمہ جہت قلم کار_
مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب کثیر التصانیف، صاحبِ اسلوب انشا پرداز اور ادبِ اطفال کے ممتاز قلم کار ہیں۔ دینی، ادبی، علمی اور سماجی موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف ان کے وسیع مطالعے اور ہمہ گیر علمی ذوق کی آئینہ دار ہیں۔ تاہم ادبِ اطفال ان کی قلمی شخصیت کا ایک نمایاں امتیاز ہے؛ جہاں انہوں نے بچوں کی ذہنی سطح اور نفسیاتی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہویے دینی، اخلاقی اور سائنسی مضامین کو نہایت دل کش اور عام فہم اسلوب میں پیش کیا ہے۔ بچوں کے لیے سائنسی موضوعات کو شعری قالب میں ڈھالنا ان کی منفرد ادبی خدمات میں شمار ہوتا ہے۔ مسلسل تصنیف و تالیف؛ صحافتی سرگرمی اور ادبِ اطفال کے لئے ان کی طویل جد وجہد انہیں معاصر اردو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
قابلِ صد مبارک باد ہیں حضرت مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب کہ انہوں نے "دیوبند کی یادیں" کے وسیلے سے نہ صرف ایک ایسی علمی و ادبی محفل سجائی جس میں دیوبند کے خالص علمی ماحول کی خوشبو محسوس ہوئی اور دیرینہ رفاقتوں کی یادیں تازہ ہوئیں؛ بلکہ اپنے رفقائے کار اور مشیرانِ گرامی کے تعاون سے اس پروگرام کو حسنِ انتظام، سلیقۂ ترتیب اور نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تقریب محض ایک کتاب کی رسمِ اجراء نہ تھی؛ بلکہ علم و ادب، اخلاص و محبت اور قدیم علمی نسبتوں کے احیاء کی ایک حسین ساعت تھی۔
تقریب کی انفرادیت
اس تقریب (مجلس) کی ایک امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ وہ جید، ذی استعداد اور نابغۂ روزگار علماء و فضلاء کے ایک نادر اجتماع کا منظر پیش کر رہی تھی۔ سیکڑوں اصحابِ علم، اربابِ فضل، مدرسین اور اساتذۂ مدارس کا ایک ہی مجلس میں اس کثرت سے جمع ہوجانا فی نفسہٖ ایک غیر معمولی اور یادگار واقعہ تھا۔ ایسی مجالس خال خال ہی نظر آتی ہیں جہاں اصحابِ درس و تدریس، وارثانِ علومِ نبوت اور اہلِ فضل و کمال ایک ہی علمی نسبت کے زیرِ سایہ اس شان سے مجتمع ہوں۔ بلاشبہ یہ اجتماع اس تقریب کے حسن و وقار میں ایک نمایاں اضافہ تھا۔
پورہ معروف۔ "علم و ادب کی ایک تابندہ روایت"
پورہ معروف بھی اس علمی اجتماع کے لئے محض ایک مقام نہیں، بلکہ اپنی ایک دیرینہ علمی و روحانی شناخت رکھتا ہے۔ یہ قصبہ علم و فضل، حدیث و ادب، تزکیہ و احسان اور اصلاح و دعوت کی ایک تابندہ روایت کا امین ہے۔ اس کی خاک نے محدثین، علما، اہلِ علم و عمل اور اربابِ نسبت پیدا کیے ہیں، اسی لیے اسے بجا طور پر "مدینۃُ العلماء" کہا جاتا ہے۔ یہاں کی فضا میں اسلاف کی علمی نسبتوں کی خوشبو، اہلِ علم کی صحبت کی کشش اور مدارس و خانقاہوں کی علمی و روحانی روایات یکجا محسوس ہوتی ہیں۔
بلاشبہ پورہ معروف کے اہلِ علم کو علمی و فکری مجالس آراستہ کرنے، اہلِ علم و دانش کو یکجا کرنے اور محبت و اخلاص کے ساتھ علمی ماحول کو پروان چڑھانے کا سلیقہ خوب آتا ہے۔ مذکورہ تقریب اسی ذوقِ علم، حسنِ انتظام اور اہلِ علم سے والہانہ تعلق کی ایک روشن اور یادگار مثال تھی۔ یوں محسوس ہوا کہ اس ایک محفل میں دیوبند کی علمی نسبت، پورہ معروف کی علمی روایت اور قدیم رفاقتوں کی محبت ایک نقطۂ اتصال پر جمع ہوگئی ہے۔
شاید یہی اس تقریب کی سب سے بڑی معنویت تھی کہ ایک کتاب کے وسیلے سے یادیں زندہ ہوئیں، رفاقتیں تازہ ہوئیں، نسبتیں مستحکم ہوئیں اور علم و ادب کے چراغ ایک بار پھر روشن ہوئے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس مجلس کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، اہلِ علم کی ان نسبتوں کو قائم و دائم رکھے اور "دیوبند کی یادیں" کو مصنف کے لئے صدقۂ جاریہ اور قارئین کے لئے علم و محبت کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔
التماس: چونکہ مولانا انصار احمد معروفی قاسمی صاحب وقفے وقفے سے ایسی علمی و ادبی محافل آراستہ کرتے رہتے ہیں، اس لئے ان سے مؤدبانہ التماس ہے کہ آئندہ کسی پُرہجوم پروگرام کے انعقاد کے لئے ماہِ 'نومبر یا فروری' کا انتخاب فرمایا کریں، تاکہ احباب بھی موسم کی شدت سے محفوظ رہیں۔ ورنہ آج 22 اگست کی اس بزم میں چند ہی ساعتوں کے اندر راقم پر جس قدر عرق ریزی گزری، اتنی تو دیوبند میں پانچ سالہ زمانۂ تعلیم کے دوران بھی نصیب نہ ہوئی!


Comments
Post a Comment