علم الاعداد اور اعتراضات
تحریر: ابوالحسنات قاسمی علمُ الاعداد سے تشخیص اور لوگوں کے سوالات ایک مشاہداتی و تنقیدی تحریر اللّٰہ تعالیٰ نے اس کائنات میں گوناگوں مزاج، طبیعت اور فکر و نظر رکھنے والے انسان پیدا فرمائے ہیں۔ ہر شخص کو اپنی استعداد کے مطابق فہم و فراست عطا ہوئی ہے اور قرآنِ کریم نے انسان کو اس قوتِ فکر سے مثبت انداز میں کام لینے، غور و فکر اور تدبر سے کام لینے کی ترغیب دی ہے۔ تاہم معاشرے میں کچھ ایسے طالع آزما بھی ہوتے ہیں جو فکر و نظر کو تعمیری سمت دینے کے بجائے سطحیت، جلد بازی اور غیر سنجیدہ طرزِ استدلال کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی شخص کی ذہنی سطح اور فکری طرزِ عمل کو سمجھنے میں سوال اور اندازِ سوال کا بھی خاصا دخل ہوتا ہے۔ میرے مشاہدے میں ایک عجیب دوہرا معیار بارہا سامنے آیا ہے: ایک ہی نوعیت کے معاملے میں اگر واسطہ ڈاکٹر سے پڑے تو سوال کرنے والا عموماً خاصا محتاط رہتا ہے، لیکن اگر معاملہ عامل سے متعلق ہو تو وہی شخص بے تکلفی سے ایسے سوالات شروع کردیتا ہے جن کی بنیاد ہی بعض اوقات غیر متوازن توقعات پر ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی مریض کو لے کر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے۔ ڈاکٹر معائنہ، علامات، ...