بھینسوں اور گایوں پر سحر کر دیتے ہیں جس سے ان کے دودھ دینے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ تھن سوکھ کر لکڑی کی طرح ہو جاتے ہیں۔ اور اگر بمشکل تمام دودھ حاصل ہو بھی جائے تو مسکہ نہیں جمتا (مکھن نہیں نکلتا) ہے۔ دودھ کے لئے: آیت { أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَاۤءِ مَاۤءࣰ فَسَالَتۡ أَوۡدِیَةُۢ بِقَدَرِهَا فَٱحۡتَمَلَ ٱلسَّیۡلُ زَبَدࣰا رَّابِیࣰاۖ وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیۡهِ فِی ٱلنَّارِ ٱبۡتِغَاۤءَ حِلۡیَةٍ أَوۡ مَتَـٰعࣲ زَبَدࣱ مِّثۡلُهُۥۚ كَذَ ٰلِكَ یَضۡرِبُ ٱللّٰهُ ٱلۡحَقَّ وَٱلۡبَـٰطِلَۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَیَذۡهَبُ جُفَاۤءࣰۖ وَأَمَّا مَا یَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَیَمۡكُثُ فِی ٱلۡأَرۡضِۚ كَذَ ٰلِكَ یَضۡرِبُ ٱللّٰهُ ٱلۡأَمۡثَالَ } [سورہ الرعد، آیت نمبر: 17] سات بار پڑھ کر پانی پر دم کر کے تھوڑا پانی ( گائے یا بھینس جو جانور بھی مبتلائے سحر ہو) اس کو پلائیں اور بقیہ پانی سے اس کا تھن دھو کر دودھ دو ہیں۔ اور مکھن کے لئے مذکورہ بالا آیت کے ساتھ آیات بطلان سحر: { فَلَمَّا جَاۤءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰۤ أَلۡقُوا۟ مَاۤ أَنتُم مُّلۡقُونَ * فَلَمَّاۤ أَلۡقَوۡا۟ قَالَ مُوسَ...
••ہے اگر قومیّتِ اسلام پابندِ مقام •• ••ہند ہی بنیاد ہے اس کی، نہ فارس ہے، نہ شام•• ضلع مہراج گنج کے تحت واقع کولہوئی تھانہ حلقہ کے موضع بڑگوں ٹولہ ، ملنگ ڈیہہ میں واقع"مدرسہ عربیہ انوارِ طیبہ" میں بہترویں یوم آزادی ہند (15/ اگست) کی تقریب کے موقعہ پر مدرسہ کے طلباء کے قومی ترانہ (جن گن من ) نہ پڑھنے کی وجہ سے مسلمانوں اور مدارس پر گھات لگائے بیٹھے شر پسندوں، فسطائی طاقتوں نے مدرسہ کےخلاف محاذ کھولتے ہوئے مدرسہ پر ( دیش دروہ ) ملک مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کے پاس مدرسہ کی منظوری ختم کرنے کی گہار لگائی ہے ، جس پر ضلع مجسٹریٹ نے اس معاملے کی تحقیقات و تفتیش ضلع اقلیتی افسر پربھات کمار کے سپرد کردی۔ ادھر رجسٹرار مدرسہ بورڈ نے سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ادارے کی منظوری ختم ہوگی اور جدید کاری اسکیم کے نام پر ملنے والی امداد بھی بند ہو جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ ڈی ایم او نے ڈی ایم کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا کہ ( مدرسہ بورڈ کے قوانین کی مانگ و مطالبات) ضابطہ کے اعتبار سے مدرسہ نہیں ہے اس لئے اس کی منظوری ختم کردی جائے۔ جبکہ حقیقت...
مدرسہ عربیہ مصباح العلوم، اسونجی بازار، گورکھپور (اترپردیش) بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ حامداً و مصلّیاً و مسلّماً۔ یوں تو ضلع گورکھپور کے تحت واقع موضع "اسونجی بازار" پر اس کی ابتداء سے ہی اللّٰہ رب العزت نے اپنی مظہر و منشأ اور مرضی (علم و عرفان) کی بارش کا سلسلہ جاری فرمادیا تھا۔ یعنی { ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ } سے جو حکم صادر فرمایا تھا اس کا کامل و مکمل مظاہرہ اس بستی میں شروع ہوگیا تھا۔ ابتدائی ایام میں انفرادی سطح پر علم دوست افراد و احباب نے اس خدمت کی انجام دہی کا سہرا اپنے سر باندھا، جن میں سر فہرست جناب فخرالحسن صاحب (علم دوستی کی وجہ سے مولوی فخرالحسن کے نام سے جانے جاتے تھے) حافظ ختم اللّٰہ صاحب، حافظ صدیق صاحب اور حافظ عبد اللّٰہ صاحب بھولے پوری تھے (آگے چل کر انہی حافظ عبد اللّٰہ صاحب کے دو صاحبزادے مولانا عبد الحق اور مولانا عبد الباقی صاحب باضابطہ مدرسہ کے مدرس مقرر ہوئے )، یہ حضرات اپنی مصروفیات (پارچہ بافی) سے کچھ اوقات فارغ کرکے اپنے گھر پر ہی بلا معاوضہ بچوں کو پڑھایا کرتے تھے، البتہ اگر کسی نے ہدیۃً کچھ دے دیا تو قبول کرلیتے۔ اور جب آبادی میں اضافہ ہوگی...
Comments
Post a Comment