حضرت مولانا خورشید عالم نوّر اللّٰه مرقدہ
ابوالحسنات قاسمی✍️
🕳️ حضرت مولانا خورشید عالم عثمانی نور اللّٰہ مرقدہ 🕳️
بحیثیتِ جلیلُ القدر محدث، دقیقُ النظر عالم اور کامیاب مہتمم و باوقار منتظم۔
بنامِ جہاں دارِ جاں آفریں
حکیمے سخن بر زباں آفریں۔
شخصیت: حضرت مولانا خورشید عالم صاحب نور اللّٰہ مرقدہ کا نامِ نامی زبان پر آتے ہی چشمِ تصور میں ایک ایسی نورانی، باوقار اور ہمہ گیر و کثیر الجہات شخصیت جلوہ گر ہوتی ہے جس کی کما حقّہٗ عکس کشی قلم و بیان کے لئے مشکل ترین مرحلہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ۔
"دامانِ نگہ تنگ و گلِ حسنِ تو بسیار"
یا بقولِ شاعر:
ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن
زباں میں آنکھ نہیں،آنکھ میں زبان نہیں
درخشاں پہلو: حضرت مولانا خورشید عالم عثمانی صاحب نور اللّٰہ مرقدہ ایک نہایت پاکیزہ سیرت، نیک خو اور خاموش مزاج شخصیت، مضبوط قوّتِ ارادی اور زبردست علمی استعداد کے مالک، متبحر و باصلاحیت عالم دین تھے۔ آپ شہرت، نام و نمود اور نمائش سے ہمیشہ گریزاں رہے، تاحیات پوری یکسوئی و تَن دہی اور انہماک و لگن کے ساتھ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مصروفِ کار رہے، جس کا اعتراف ان کے رفقاء اور تلامذہ سبھی کرتے تھے۔ آپ علم و فضل کے ایسے عظیم ترجمان تھے جن کو اللّٰہ تعالیٰ نے غیر معمولی بصیرت سے نوازا تھا، تقویٰ و طہارت، عفت و حیائے عثمانی کے سچے نقیب و امین، اور خشوع و خضوع کے مہکتے ہوئے گلشن کا ایک دل آویز پھول تھے، جس میں خانوادۂ عثمانی کی تابندگی پوری طرح نمایاں تھی۔
رُخِ زرّینِ من منگر کہ پائے آہنی دارم
چہ می دانی! کہ در باطن چہ شاہے ہمنشیں دارم
طرزِ تدریس: تدریس کے میدان میں بھی آپ کا طرز و انداز بالکل منفرد اور اسلوب انتہائی دل نشیں تھا۔ نہایت شستہ، مہذب، سہل اور منظم انداز میں گفتگو فرماتے، جس سے طلبہ کو علمی نکات سمجھنے میں غیر معمولی سہولت ہوتی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا گویا آپ کے لبوں سے علم کے موتی جھڑ رہے ہوں۔ غیر ضروری طوالت، دقیق تعبیرات کی کثرت اور طلبہ پر اضافی بوجھ ڈالنے سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے۔ مسائل کی توضیح نہایت خوش اسلوبی اور سلیقہ مندی سے فرماتے، طلبہ کے سوالات کو پوری توجہ سے سنتے اور اطمینان بخش جوابات عنایت فرماتے۔
مراجع و مصادر کا ایسا استحضار کہ جب کوئی مسئلہ تحقیق طلب ہوتا تو متعلقہ کتب کی طرف رہنمائی فرماتے اور رجوع کی ترغیب دیتے تاکہ طلبہ خود بھی مطالعہ و تحقیق کا ذوق پیدا کریں۔ وقت کی پابندی آپ کا نمایاں وصف تھا، درس کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد اضافی طوالت سے اس خیال سے گریز کرتے کہ اس سے طلبہ کو بار محسوس ہوتا ہے۔ آپ صرف علمی صلاحیتوں کی نشوونما ہی پر نہیں بلکہ طلبہ کی عملی و اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ ایک مشفق مربی اور باپ کی طرح ان کی لغزشوں سے درگزر اور اصلاح فرماتے، مزید برآں آپ ہمیشہ اُن کاموں سے بچنے کی تاکید فرماتے جو طالبانِ علومِ نبوت اور علماءِ دین کے منصب و وقار کے خلاف ہوں۔
شرفِ تلمّذ: سال 1990-91ء میں راقم السطور نے دورۂ حدیث شریف میں حضرت مولانا مرحوم سے "صحیح مسلم، جلد اول" پڑھی ہے۔ بڑے افتخار کے ساتھ سطورِ ذیل تحریر کر رہا ہوں کہ "یہ بندۂ حقیر کے لیے سعادت و خوش بختی کی بات ہے کہ مجھے حضرت مولانا مرحوم سے شرفِ تلمّذ حاصل ہوا۔ اس لئے کہ حضرت کی اصلاحی نگاہ جس پر پڑجاتی، آپ اسے پند و موعظت کی بھٹی میں تپا کر کندن بنا دیتے تھے۔"
انتظامی صلاحیت: آپ کی ذاتِ گرامی ان اکابر اہلِ علم میں شمار ہوتی تھی جنہوں نے صرف درس و تدریس ہی نہیں بلکہ انتظامی امور میں بھی ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جو دیرپا اور ناقابلِ فراموش ہیں۔
ایک تو ادارہ کے کثیر الجہات انتظامی و تعلیمی امور اور اہم و ہمہ گیر فرائض، مستزاد یہ کہ طلبہ کے روزمرہ کے مسائل و درخواستیں ان دونوں کو بیک وقت حسنِ توازن کے ساتھ نبھانا یقیناً آسان کام نہیں، مگر حضرت مولانا ان سب کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ طویل عرصہ تک آپ منصبِ نیابتِ اہتمام و انتظام پر فائز رہے اور طلبہ کو کبھی آپ سے کوئی شکایت نہ ہوئی۔ بلکہ آپ خود ان کی ضروریات کا بھرپور خیال رکھتے اور ان کی نگہداشت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے تھے۔
دفتری اوقات کے علاوہ بھی طلبہ آپ کے دولت کدہ پر حاضر ہو جایا کرتے، اور آپ ہمیشہ خندہ پیشانی سے نہ صرف ان کی بات سنتے بلکہ ان کے ساتھ پدرانہ شفقت کا معاملہ فرماتے، جس سے طلبہ کے دلوں میں آپ کی غیر معمولی محبت اور عقیدت پیدا ہوتی تھی۔ چھوٹوں پر شفقت و عنایت آپ کا امتیازی وصف تھا، انہیں علمی منازل طے کرنے کی ترغیب دیتے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں خاص دلچسپی لیتے تھے۔
اسرار محبت را ہر دل نہ بود قابل
دُر نیست بہر دریا زر نیست بہر کانے
علمی و افتائی خدمات: فخر المحدثین حضرت مولانا انظر شاہ مسعودی کشمیری (رحمۃ اللّٰہ علیہ) کی وفات کے بعد آپ کو دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز کیا گیا۔ اس سے قبل تقریباً تین دہائیوں تک آپ مسلسل "صحیح مسلم" کا درس دیتے رہے، جس سے آپ کی حدیث فہمی اور تدریسی مہارت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ نیز دارالعلوم وقف دیوبند کے صدر مفتی حضرت مفتی سید احمد علی سعید صاحب کے سانحۂ ارتحال کے بعد شعبۂ افتاء کی ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی اور اس طرح آپ صدر مفتی بھی منتخب ہوگئے۔
آپ ہر مسئلہ پر نہایت گہری نظر رکھتے اور ان کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے تھے۔ الفاظ اور تعبیرات کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط برتتے، تاکہ نہ عبارت میں کوئی خلل باقی رہے اور نہ مسئلہ کسی پہلو سے نامکمل و تشنہ رہ جائے۔ اگر کوئی کسی لفظ یا نکتے کی طرف توجہ دلاتا تو آپ کشادہ دلی کے ساتھ اس پر غور فرماتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے۔
تادمِ آخریں آپ اپنی ذمہ داریوں کے تئیں نہایت حساس، اور سرگرم رہے۔ آپ کی بابرکت کامل زندگی خدمتِ علم و دین، اخلاص و للّٰہیت اور تربیت و رہنمائی کا ایک درخشاں و تابندہ عنوان اور روشن داستان ہے، جو رہتی دنیا تک اہلِ علم و فضل کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
صدق و اخلاص و صفا باقی نماند
آں قدح بشکست و آں ساقی نماند
حضرت مولانا مرحوم سے متعلق راقم السطور کی سرگزشت۔
حلیہ و عظمتِ شان: حضرت مولانا خورشید عالم صاحب نور اللّٰہ مرقدہ باوجودیکہ کہ انتہائی سنجیدہ اور پروقار شخصیت کے مالک تھے، چہرہ نورانی تھا، روحانیت کا پیکرِ مجسّم تھے۔ پوشاک عموماً سفید اور زرق و برق ہوتا، موسم گرما میں سر پر دو پلّی اونچی دیوار کی ٹوپی پہنتے، اور موسم سرما میں کبھی شیروانی اور کبھی صدری اور سر پر گرم (اونی رومال) منفرد انداز میں باندھتے جو انتہائی خوشنما اور دیدہ زیب نظر آتا۔ جب چلتے تو آگے کی طرف جھکاؤ (نگاہیں نیچی) اور زبان ذکر و تلاوت سے سرشار مگر ان سب کے ساتھ ہی آپ پُر رعب بھی نظر آتے تھے۔ جس وقت (سن 1987ء تا 1991ء) راقم السطور وقف دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم تھا، اس وقت دیوبند کی مرکزی جامع مسجد میں درس و تدریس کا سلسلہ چل رہا تھا۔ حضرت مولانا جب اپنے آشیانے سے چلتے اور آدینی مسجد سے مغرب کی طرف گلی سے جامع مسجد کے جنوب مشرقی دروازے کے سامنے نمودار ہوتے تو حضرت کو دیکھتے ہی باہر موجود تمام طلباء فوراً مسجد کا بلکہ اپنی اپنی درسگاہوں کا رخ کرلیتے۔
کلامِ استطرادی: اب بات آہی گئی تو ذکر کرتا چلوں کہ بعض دفعہ بہت سے طلبہ جامع مسجد کے صدر دروازے کے پاس بھی موجود ہوتے وہ درحقیقت مسجد مارکیٹ کی ایک دکان سے پان خوری و سگریٹ نوشی کے بہانے، پان کی دکان سنبھال رہی دخترانِ مہ لقا و پری وَش (تسُرُّ النَّاظِرِین) کے حسن سے محظوظ ہونے، نفسانی تلذذ ( گناہ بے لذت) کے ارتکاب میں وقت ضائع کرتے تھے، حضرت مولانا کو دیکھتے ہی پورا جماوڑہ چشم زدن میں نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا، طلبہ آس پاس کی دکانوں میں گُھس جاتے۔
خیر! حضرت مولانا جب دفتر اہتمام میں گدی نشین ہوتے (جو کہ مسجد کے شمال مشرقی کونے میں قائم تھا) تو وہاں سے داخلی دروازہ صاف دکھتا تھا، آنے جانے والے طلباء تاخیر سے آنے کی صورت میں بہت ہی بچ بچاکر آتے جاتے۔ تعلیمی گھنٹے خالی ہونے، اور حضرت مولانا کے باز پرس نہ کرنے کے باوجود بھی طلباء مسجد سے باہر نکلنے میں کافی ہچکچاہٹ محسوس کرتے۔
انتظامی امور میں حضرت انتہائی چاک و چوبند رہتے۔ ایک ایک درخواست یا دفتری کاغذات و رجسٹر بہت باریکی سے چیک کرتے، کہ کہیں کسی منشی (دفتری محرر) سے کوئی چوک تو نہیں ہوئی ہے
دقّتِ نظر: ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔ حضرت مولانا پاکستان ( میں رہائش پذیر اپنے خانوادہ کے افراد سے ملنے جلنے) کے سفر پر تھے۔ اور حضرت مولانا جمیل احمد صاحب سکروڈوی (شارحِ کتب کثیرہ) کو اپنا قائم مقام مقرر کرگئے تھے۔ ہوا یوں کہ اسی دوران گورکھپور کے حافظ سعید احمد صاحب مرحوم (جو آگے چل کر سیّد السفراء کے نام سے مشہور ہوئے) نے سفارت (چندہ کرنے) کی غرض سے اہتمام میں راقم اور (مولانا، ڈاکٹر) رفیع الدین قاسمی گورکھپوری کی وساطت سے درخواست دی، حضرت مولانا جمیل احمد صاحب نے تفتیش اور ضروری معلومات حاصل کرنے کے بعد درخواست قبول کرلی۔ محرر (دفتر محاسبی) کے پاس سے رسیدات جاری کرادی گئیں۔ سفیر صاحب کو ممبئی کا حلقہ دیا گیا، سفر پر چلے گئے، ابھی عرصہ بیس دن ہی گزرے تھے کہ حضرت مولانا خورشید عالم صاحب سفر سے واپس تشریف لے آئے۔ دفتر اہتمام میں بیٹھ کر رجسٹر چیک کر رہے تھے۔ ان کی نگاہیں رسیدات کے اندراج پر پہونچیں (جو کہ مختلف رجسٹروں میں اندرج ہوتا ہے) تو دیکھا کہ ایک رجسٹرڈ میں تو ان رسیدوں کا ذکر ہی نہیں۔ فوراً یہ دیکھا کہ کس کی معرفت و ضمانت پر ان کا تقرر ہوا ہے؟ ہم دونوں کا نام ضمانت نامہ پر لکھا ہوا تھا، طلب کیا اور (چوں کہ وہ زمانہ موبائل یا عام ٹیلی فونک نہ تھا) کہا کہ اپنے سفیر صاحب کو خط لکھ کر جلدی حاضر ہونے کو بولیں۔ خیر انھوں نے "سورتی محلہ، ممبئی" ایک دکان کا ایڈریس بتایا تھا، ان کے نام خط لکھا گیا، عشرہ یا پندرہ دن گزرتے گزرتے وہ واپس آئے اور دفتر میں حاضر ہوگئے۔
حضرت مولانا نے بتایا کہ اہتمام کے ضابطے و قوانین کے مطابق ایک رجسٹرڈ میں رسیدوں کے عدمِ اندراج کی وجہ سے آپ کو طلب کیا گیا ہے۔ خیر کارروائی پوری کرائی گئی۔ ان کا فراہمئ مالیات کا جو سالانہ کوٹہ متعین کیا گیا اتنی مقدار میں رقم تو ایک ماہ میں ہی لے کر حاضر ہوگئے۔ حضرت مولانا ان کی قلیل مدتی کارکردگی دیکھ کر بہت خوش ہوئے، دعائیں دیں، اور کوٹہ تو وہی رہنے دیا، مگر الاؤنس طعام میں اضافہ کردیا۔ تو یہ تھی حضرت کی انتظامی صلاحیت اور باریک بینی۔
ارتکابِ عدمِ پاسداری: راقم فراغت کے بعد کافی عرصہ دیوبند میں مقیم رہ کر خوشخطی کے شغل میں مصروف رہا۔ ایک مرتبہ (غالباً 1997ء) کا واقعہ ہے کہ دورۂ حدیث کے طلباء اپنا تعارفی کتابچہ کا مسوّدہ کتابت کے لئے میرے پاس لائے، اس کتابچے پر آغاز میں اساتذہ کرام کے تاثرات مرقوم ہوتے ہیں۔
راقم نے کتابت کا کام پورا کردیا، اب کتابت شدہ مسودہ کی تصحیح کا مرحلہ آیا، طلباء نے تصحیح میں کوتاہی برتی اور دو لفظ (نائب مہتمم ) کا ترکہ کردیا۔ جہاں حضرت مولانا مرحوم نائب مہتمم، دارالعلوم وقف دیوبند کے تأثراتی کلمات لکھے گئے تھے، مضمون کی ابتداء میں سرخی کے نیچے تأثر لکھنے والے کا مقام و مرتبہ درج کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کتابت میں (نائب مہتمم) کا لفظ چھوٹ گیا، اور تصحیح میں کوتاہی کے سبب نظر ثانی میں بھی ترکہ رہ گیا۔ جب کتابچہ طبع ہوکر منظر عام پر آیا، حضرت مولانا کے پاس ایک کاپی پہونچی تو فوراً اسی صفحہ پر نظر پڑی۔ طلباء سے دریافت کیا کہ یہ جملہ (نائب مہتمم) کیسے متروک ہوگیا؟ انہوں نے اس کی ذمہ داری کاتب کے سر کردی، کہ انہوں نے چھوڑدیا ہے، حالانکہ کوئی بھی کاتب (خوش نویس) عمداً ایک لفظ تو درکنار ایک نقطہ و اعراب بھی نہیں چھوڑتا۔ باوجود کہ حضرت مولانا مرحوم کان کے کچّے (باتوں میں آنے والے) نہیں تھے، پھر بھی کسی نے ان کو بول دیا کہ سازش کرکے یہ حذف کرایا گیا ہے۔ خیر! مولانا مرحوم نے مجھے طلب کیا، بازپرس کی۔ واقعہ طویل ہے، لبّ لباب یہ کہ اسی معاملہ کو لے کر راقم سے کچھ تلخ گوئی ہوگئی۔ میں نے جوش میں ہوش کھو کر (دہلی سے شائع ہونے والے روز نامہ) فیصل جدید میں ایک طویل مضمون لکھ دیا۔ اخبار لے کر دیوبند کے ایک سفیر (حافظ محمد رئیس) صاحب حضرت مولانا مرحوم کے پاس پہونچے، ادھر مولانا واصف حسین (ندیم الواجدی) صاحب، مالک "دارالکتاب دیوبند" (ان کی حضرت مولانا مرحوم سے قرابت داری تھی) کی نظر بھی اس مضمون پر پڑی۔ مجھ کو کسی سے بلوایا، سارا ماجرا معلوم کیا، پوچھا کہ کسی کی طرف سے کوئی ردعمل تو نہیں آیا؟ میں نے نفی میں جواب دیا۔ بولے کہ بولے کہ ابھی دو دن انتظار کرو، دیکھو کہ کوئی عملی یا تحریری رد عمل آتا ہے کہ نہیں، پھر کوئی اقدام ہوگا۔
خیر دو دن گزر گئے کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ مولانا ندیم الواجدی صاحب مجھے اپنے ساتھ لے کر عصر کے بعد حضرت مولانا خورشید عالم صاحب ( نور اللّٰہ مرقدہ) کے کاشانے پر گئے، معاملہ کو وضاحت کے ساتھ پیش کیا، حضرت مولانا مرحوم نے بہ توجہ باتوں کو سنا، ماضی میں گفت و شنید میں پیش آمدہ تلخی و ترشی کو خندہ پیشانی کے ساتھ درگزر فرمایا۔
چوں کہ میں دارالکتاب سے شائع ہونے والی کتابوں کی کتابت کِیا کرتا تھا اس لئے مولانا ندیم الواجدی صاحب میرے اخلاق و مزاج سے بخوبی واقف تھے۔ اور مولانا ندیم الواجدی صاحب صلح و مصالحت اور صلہ رحمی کے کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ ان شاء اللّٰہ آپ کو ہمیشہ نیکوکاری کے لئے یا کیا جاتا رہے گا۔
نام نیکو گر بماند ز آدمی
بہ کزو ماند سرایِ زرنگار
فَطَابَ اللّٰہُ ثَرَاهُ، وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ۔
دو ایک واقعہ اور بھی قابلِ ذکر ہے، مگر تحریر کی طوالت کے مدّ نظر بس اتنے ہی پر اکتفاء کرتا ہوں۔
حسنِ ظنّ و اعتمادِ مرتّب: حضرت مولانا خورشید عالم صاحب نور اللّٰہ مرقدہ کے پسر زادہ عزیزم مولانا محمد رافع عثمانی سلّمہ اللّٰہ تعالیٰ کی اس عرض داشت پر جس میں انہوں نے اپنے جدِ بزرگوار کے سوانحی مجموعہ مرتب کرنے کا اظہار کیا ہے، بندۂ حقیر نے یہ چند سطور قلم بند کی ہیں۔ میں مشکور ہوں عزیزم محمد رافع سلّمہ کا کہ انہوں نے مجھ ناچیز کو اس قابل سمجھا، اس درخواست کو راقم اپنے لئے باعثِ افتخار سمجھتا ہے۔
دعاء گو ہوں کہ خداوندِ متعال حضرت مولانا خورشید عالم صاحب نور اللّٰہ مرقدہ
(متوفّی 14/ربیع الاوّل 1433ھ، مطابق 7/فروری 2012ء بروز سہ شنبہ) کو اپنا جوار رحمت مرحمت فرمائیں، اور عزیزم کے علم و عمر میں برکت عطاء فرمائیں، ان کی مساعئ جمیلہ کی تکمیل کے مراحل کو آسان، کامیابی سے ہم کنار نیز اس کے اسباب مہیا فرمائیں۔
'وما ذٰلک علی اللّٰه بعزیز.'
بتاریخ 27، رمضان المبارک 1447ھ
موافق: 17، مارچ 2026ء بروز منگل
📚🏛️ دارالثقافه
📍اسونجی بازار،
ضلع: گورکھپور (اترپردیش)

Comments
Post a Comment