سرگزشتِ سفرِ پورہ معروف، مئو
سرگزشتِ سفرِ پورہ معروف، مئو
سفر زندگی کے لیے برگ و ساز
سفر ہے حقیقت، حضر ہے مجاز
مورخہ 16، فروری بروز پیر۔ اول وقت میں گھر پر ہی نماز ظہر ادا کرکے ، کوئیں بازار سے مبارک پور جانے والی بس پر 1:30 پر سوار ہوا، (چوں کہ وہ بس اندر گاؤں گرام میں ہوتے ہوئے لمبا سفر کرکے 4 گھنٹے سے زائد وقت برباد کرکے مبارک پور پہونچتے ہے، اس لئے) دوہری گھاٹ پہونچ کر بس تبدیل کر دیا، اس طرح جین پور بوقت اذانِ عصر پہونچ گیا۔ وہاں پر ایک صاحب کی دعاء و عملیات سے متعلق خدمت کرنا تھا، وہ خدمت انجام دیا، مبارک پور جاکر ایک دوست کے وہاں قیام و شب گزاری کا ارادہ تھا، مگر جین پور والے میزبان نے عقیدت و محبت کی وجہ سے روک لیا۔
خیر! 18، فروری بروز منگل صبح ناشتے سے فراغت کے بعد میں نے درخواست کیا کہ مجھے 12 بجے مئو، مرزا ہادی پورہ پہونچنا ہے، کوئی سبیل نکالیں کہ وقت سے پہلے یا کم از کم پر وقت پہونچ جاؤں، انہوں نے کرم فرماکر ایک لڑکے کے ساتھ بائیک کے ذریعے روانہ کیا، 10:50 پر مرزا ہادی پورہ پہونچ گیا، وہاں پر میرے میزبان مولانا محمد شمیم صاحب نے پرتپاک استقبال کیا، اپنے گھر لے گئے، ٹھوڑی دیر انتظار کے بعد میرے دیرینہ رفیقِ محترم (ایڈیٹر ماہنامہ پیغام، پورہ معروف، مئو) جناب مولانا انصار احمد قاسمی معروفی صاحب بھی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق تشریف لے آئے۔ ہم دونوں مہمانوں کا مولانا شمیم صاحب نے نصف درجن سے زائد اقسام و انواع کی اشیائے خورد و نوش سے ضیافت کیا۔
پھر تھوڑی دیر استراحت کا وقفہ ہوا، اولِ وقت میں ظہر کی نماز ادا کی گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد ظہرانہ میں بھی ما شاء اللّٰہ انتہائی پُر لطف و پُر تکلف کھانے کا نظم تھا (فجزاہ اللّٰہ تعالیٰ جزاء الأوفیٰ)۔
کھانے سے فارغ ہوکر مولانا انصار احمد صاحب کچھ ضروریات کے سلسلے میں شہر چلے گئے، بندہ راقم السطور قیلولہ کی ادائیگی میں مصروف ہوگیا۔
پھر عصر کی اذان ہوئی، نماز سے فارغ ہوکر اپنے میزبان کے ساتھ مولانا محمد راشد صاحب (جن سے مرکز المعارف ممبئی میں شناسائی ہوئی تھی جب کہ وہ وہاں پر(DELL COURSE)ڈپلومہ ان انگلش لینگویج اینڈ لیٹریچر کے طالب علم تھے، اور وہاں سے پڑھنے کے بعد وہیں پر لکچرر منتخب ہوگئے، چار سال وہاں خدمت انجام دینے کے بعد کسی مصلحت سے وطن میں ہی میں رہنے کو ترجیح دیا) سے ملاقات کے ان کے گھر پر (چمن پورہ، نزد پولیس چوکی ڈومِن پورہ) جانا ہوا، ملاقات ہوئی، زبردست قسم کا فیاضانہ عصرانہ پیش کیا، اس دوران احوال پُرسی بھی ہوتی رہی، مصروفیات کے متعلق معلومات حاصل کیا، معلوم ہوا کہ مفتاح العلوم میں دو گھنٹے تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں، اور دو گھنٹے کسی انگلش میڈیم اکیڈمی میں بھی۔
وہاں سے مغرب سے دس منٹ قبل فرصت ملی۔ مغرب کی نماز کے بعد مولانا محمد شمیم صاحب کے ساتھ مختلف جگہوں سے سیر و تفریح کرتے ہوئے ان کے گھر پہونچے، عشاء تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، عشائیہ کے بعد "تعشّٰى وتمشّٰى" کے تحت چہل قدمی کیا گیا۔ 10:30 پر بستر استراحت پر پہونچ گیا، حسب معمول دن بھر (واٹس ایپ پر) موصول ہونے والے پیغامات کے جواب دیئے، اور کچھ یاد داشت تحریر کیا، پھر مولانائے محترم کو "شب بخیر" کہا اور سو رہا۔
18، فروری بروز بدھ صبح ناشتے کے بعد مئو سے روانہ ہوا، تھوڑی ہی دیر میں مدینۃ العلم والعلماء پورہ معروف، محلہ نئی بستی (شیخ مولانا زین العابدین رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خانقاہ، ربانی مسجد) پہونچا، وہاں پر حضرت مولانا قاری عبد السّتار صاحب مدظلہ العالی (شیخ الحدیث جامعہ امداد العلوم، اسلام پورہ، وڈالی، گجرات۔ خلیفۂ اجلّ حضرت شیخ مولانا زین العابدین اعظمی معروفی رحمۃ اللّٰہ علیہ) سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت کے ساتھ گجرات سے ہی چند نفر مسترشدین و متوسلین بھی آئے ہوئے تھے، ان سے بھی ملاقات رہی۔
تھوڑا وقفہ کے بعد غسل و اغتسال سے فارغ ہوا، پھر محلہ بلوّہ، مولانا انصار احمد قاسمی صاحب کی دعوت پر (مولانا محمد شمیم صاحب کے ساتھ) ان کے دولت کدہ پر 12، بجے حاضری ہوئی۔
حضرت مولانا قاری عبد السّتار صاحب مع عقیدت مندوں کے قریب میں ہی کسی کے وہاں دعاء و حصولِ برکت کے لئے مدعو تھے، اور ہونا بھی یہی چاہئے، علماء و صلحاء اور مشائخ سے عقیدت اور سچی محبت کی تقاضا یہی ہے کہ ان کے عزت و اکرام کی جو بھی سبیل ہو اس کو اپنا کر ان سے برکت و فیض حاصل کیا جائے۔
جیسا کہ اسلاف کے اقوال حکمت سے بھی اس کی ترغیب ملتی ہے "كُنْ عَالِماً أَوْ مُتَعَلِّماً أَوْ مُسْتَمِعاً أَوْ مُحِبّاً لَهُمْ وَ لاَ تَكُنِ اَلْخَامِسَ فَتَهْلِكَ فَإِنَّ أَهْلَ اَلْعِلْمِ سَادَةٌ وَ مُصَاحَبَتَهُمْ زِيَادَةٌ وَ مُصَافَحَتَهُمْ زِيَادَةٌ"۔ عالم بنو، یا طالبِ علم بنو، یا (اہلِ علم کی بات) سننے والے بنو، یا ان سے محبت کرنے والے بنو، اور پانچویں (یعنی ان کے دشمن یا بے پروا) نہ بنو کہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ بے شک اہلِ علم سردار ہوتے ہیں، ان کی صحبت اضافہ (برکت و ترقی) ہے، اور ان سے مصافحہ کرنا بھی اضافہ (رحمت و خیر) ہے۔
انتباہ و آگہی: اس قول کے مصادر کی نسبت میں اختلاف ہے، شیعی مراجع میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی طرف، اور اہل سنت والجماعت کے مراجع میں حضرت ابو الدرداء رضی اللّٰہ عنہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
حقیقتِ حال: یہ عبارت حدیثِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہیں ہے۔ نسبت میں اختلاف کی وجہ سے اسے "سلف کا قول" یا "قولِ حکمت" لکھ دیا گیا ہے۔
خیر! مولانا انصار احمد صاحب کے ساتھ ہم بھی وہاں پہونچ گئے، وہاں سے فارغ ہوکر پھر ایک جگہ دعاء و چائے نوشی کا پروگرام چلا۔
پھر ظہر کی نماز کے بعد مولانا محمد شمیم اور بندۂ راقم دونوں لوگوں کے ظہرانہ کھانے کا انتظام مولانا انصار احمد صاحب کے وہاں تھا، مولانا نے نہ صرف انتہائی پُر لطف بلکہ پُر تکلف (کبوتر و بیضۂ مرغ) کا انتظام کیا تھا اور فیرینی مزید برآں۔
کھانے کے فارغ ہوکر اب مسجد ربانی میں نفل اعتکاف کی نیت سے داخل ہوگئے۔ عصر کی نماز ادا کی گئی، عصر کے بعد ذکر جہری کی مجلس لگی، پھر چائے وائے کا اہتمام ہوا۔ مغرب کے بعد رمضان المبارک کے چاند کی اطلاعات موصول کرنے میں مشغول ہوگئے، بالآخر 7 بجے مرکزی دار القضاء امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ۔ پھلواری شریف پٹنہ کے لیٹر ہیڈ پر رؤیت ہلال کی اطلاع بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوئی۔ اب تراویح کے اہتمام میں لگ گئے۔
اس سفر کے طفیل میں مغرب کے بعد ربانی مسجد میں ہی (1993ء جامعۃ الرشاد، أعظم گڑھ میں تدریسی زمانے کے) ایک ساتھی مولانا مطیع اللّٰہ صاحب سے ملاقات ہوگئی۔
تحریکِ سفر: جو بات اس سفر کی محرّک بنی وہ یہ ہے کہ رمضان المبارک 1446ھ میں جب ربانی خانقاہ پورہ معروف میں مولانا انصار احمد قاسمی (اب ہمارے) پیر و مرشد حضرت مولانا قاری عبد الستار صاحب مدظلہ العالی تشریف لائے ، تو مولانا انصار احمد صاحب نے روزانہ کی ڈائری لکھنی شروع کی اور اسے فیس بک پر ڈالا، نیز واٹس کے ساتھ اسے ماہنامہ پیغام میں بھی شائع کیا، جو بندۂ راقم السطور کی نظروں سے بھی گزرا، بزرگوں سے محبت کی وجہ سے میرے دل میں بھی حضرت شیخ صاحب سے ملاقات کی خواہش کا جذبہ پیدا ہوا ، میں نے مولانا انصار احمد صاحب سے تذکرہ کیا کہ مجھے بھی حضرت شیخ و مرشد صاحب سے ملاقات و استفادہ کرنا ہے، مگر معلوم ہوا کہ اس وقت حضرت شیخ گجرات واپس جا چکے ہیں۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
جس کے باعث اُس وقت بندہ کی آرزو پوری نہ ہوسکی، میں نے ارادہ کیا کہ آئندہ حضرت کے ورودِ مسعود سے پہلے ہی میں پورہ معروف خانقاہ میں حاضر ہو جاؤں گا، اس درمیان مولانا انصار احمد صاحب نے کئی بار پورہ معروف آنے کے دعوت کی مگر عدیم الفرصتی مانع رہی۔ جو سالِ رواں شعبان المعظم کی آخری تاریخ میں بفضلِ ایزدی پوری ہوگئی۔ اللّٰہ الحمد۔
بیعت: میرا ارادہ تھا کہ رمضان المبارک کے اولِ جمعہ کو حضرت شیخ کے دستِ راست پر بیعت کروں گا، مگر ذرا سی تاخیر ہوگئی۔ اس لئے 3، رمضان المبارک 1447ھ مطابق 21 فروری 2026ع، بروز ہفتہ۔ بعد نماز ظہر کے بعد بیعت ہوا۔حضرت شیخ نے اپنے تصرّفاتِ باطنی اور قلبِ منوّر کے انوارِ روحانیہ سے بندۂ حقیر و گنہگار کے قلب کی ظلمانیت کو مصفّیٰ کیا۔ اور کچھ اذکار و اوراد کی تعلیم فرمائی۔
بروز شنبہ 22 فروری نبیرۂ پسرِ حضرت مولانا عثمان معروفی صاحب ( حافظ، مولانا محمد ریحان عثمانی ) ساکن محلہ بانسہ سے فون پر گفتگو ہوئی، ملاقات کے لئے خانقاہ میں تشریف لائے، حضرت مولانا شبیر مشتاق صاحب نے حضرت شیخ سے ان کا تعارف کرایہ، دعائیں دلوائی، حضرت نے کچھ نصیحتیں کیں۔ ریحان صاحب نے جاتے وقت مجھے گھر پر افطار کے لئے مدعو کرگئے۔ ماشاء اللّٰہ افطار دسترخوان پر بہت زیادہ اشیاء کا اہتمام و انصرام کیا تھا۔ فجزاہ اللّٰہ تعالیٰ جزاءً جزیلاً۔
ان سے 2022ء میں شناسائی ہوئی تھی، جبکہ وہ میرے گاؤں (اسونجی بازار) میں تراویح پڑھانے کے لئے تشریف لائے تھے، دوسال انہوں نے یہاں تراویح سنایا۔
نظامِ خانقاہ: فجر کے بعد فوراً آرام۔ 10، بجے سے گیارہ تک تلاوت قرآن ۔
11، بجے سے بارہ تک تعلیم (اشرفی بہشتی زیور، باب العقائد و غیرہ)۔
ظہر کے بعد ختم خواجگان مشائخِ چشت، اس کے بعد تصوف کی تعلیم۔ ہوتی ہے، جس میں کتاب "اکمال الشیم" تألیف مولانا عبد اللّٰہ صاحب گنگوہی پڑھی جاتی ہے۔
اس کے بعد بیعت کا سلسلہ رہتا ہے۔
عصر کے بعد ذکر جہری کی مجلس ہوتی ہے، اس کے بعد دعاء کا اہتمام ہوتا ہے۔
تراویح سے فارغ ہونے کے بعد سورہ یاسین، سورہ ملک و آیت الکرسی پڑھنے کا اہتمام ہوتا ہے، اس کے بعد متصلاً "کشکولِ باطن" (تألیف مولانا عبد الباطن صاحب جون پوری) کتاب سے چند صفحات پڑھ کر سنایا جاتا ہے، جو کہ اصلاح و نصیحت پر مبنی باتیں ہوتی ہیں۔
اس کے بعد رات کے کھانے کا پروگرام ہوتا ہے، پھر ایک مرتبہ چائے کا دور چلتا ہے۔ اس کے بعد سونے و استراحت کا وقت ہوجاتا ہے، اتنے میں ساڑھے گیارہ بجے شب کا وقت ہوجاتا ہے۔
رونق و روحانیت: بہر حال! ایک تو ماہِ مقدّس، دوسرے خانقاہی ماحول مستزاد یہ کہ حضرت شیخ و مرشد مولانا قاری عبد السّتار صاحب جیسی روحانی شخصیت کی موجودگی اور علماء و حفاظت کی کثیر تعداد میں حاضری اور آمد و رفت نیز حضرت شیخ کی روحانیت و تصوف کی تعلیم اور ذکر کے بعد کی مستجاب دعاؤں
سے نہ صرف یہ کہ خانقاہ کا ماحول گویا بقعۂ نور میں تبدیل ہو جاتا ہے، بلکہ پورا خطہ بالخصوص نئی بستی کا سارا ماحول نورانی منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس سلسلے کو تا قیامِ قیامت قائم و دائم، جاری و ساری رکھیں۔
هر کجا نور خدا جلوه کند
ظلمتِ جهل ز دلہا برکند
مفہوم: جہاں الٰہی نور جلوہ گر ہو، وہاں جہالت اور تاریکی باقی نہیں رہتی۔
سپاس و ممنونیت: خانقاہ کے منتظمین حضرات لائق قدردانی و سپاس گزاری ہیں کہ واردین و مراجعین کا خوب خیال کرتے ہیں، ہمہ وقت وضوء و غسل کے لئے گرم پانی کا اہتمام، قیام و آرام کے لئے آرام دہ بستر، خورد و نوش کا بھی عمدہ سے عمدہ ترین انتظام کرتے ہیں۔
امتنان و تشکّر: بڑی خوشی کی بات ہے کہ خانقاہی نظام کی برکت سے نئی بستی، ربانی مسجد کے اطراف ساکنین (بالخصوص نوجوانوں و خواتینِ خانہ) میں مہمان نوازی و خدمت کا زبردست جذبہ دیکھنے کو ملا، جو کہ نیا نہیں ہے بلکہ خانقاہ کے قیام کے ابتدائی دور سے ہی چلا آرہا ہے۔ خانقاہ میں واردین و معتکفین کے لئے عشاء کے بعد بچے انتہائی خوش دلی کے ساتھ کھانا کھلاتے ہیں، اس کے بعد
بستر لگاتے ہیں، پھر سحری سے ایک گھنٹہ قبل آکر سارے بستر سمیٹ کر ایک کنارے رکھ دیتے ہیں تاکہ معتکفین اطمینان کے ساتھ تہجد و نوافل ادا کرسکیں۔ پھر سحری کھلانے میں مصروف ہوجاتے ہیں، پھر نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد بستر لگادیتے ہیں، اور ڈھائی تین گھنٹے کے بعد آکر پھر بستر سمیٹ دیتے ہیں تاکہ خانقاہ کے معمولات اطمینان و سکون سے انجام پاسکیں۔ مہمانوں کے کپڑے دھونے اور تھکاوٹ دور کرنے کے لئے حسب ضرورت تھیراپی بھی کردیتے ہیں۔
اور خانقاہ کی طرف سے ضیافت کے لئے جو خورد و نوش کا انتظام کیا جاتا ہے وہ انتہائی بشاشت کے ساتھ خواتین (افطار، عشائیہ و سحری کی) مختلف زاویوں و ذائقوں کی ڈِشیں، لذیذ پکوان اور دسترخوان کو آراستہ کرنے کا سامان تیار کردیتی ہیں۔ یہ سبھی لوگ قابل قدر و لائق صد شُکر ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ غیب کے خزانوں سے انہیں نیک بدلہ عطاء فرمائیں۔
اے کریمی کہ از خزانۂ غیب
گبر و ترسا وظیفہ خور داری
دوستاں را کجا کنی محروم
تو کہ با دشمناں نظر داری
آمین یارب العالمین۔
بازگشت: 23، فروری موافق 5، رمضان المبارک بروز پیر صبح 9:45 پر حضرت شیخ و مرشد سے اجازت لے کر گھر کے لئے روانہ ہوا۔ کوپاگنج پہونچنے کے بعد تھوڑا انتظار سے گورکھپور کے لئے روڈویز بس مل گئی۔ رفتہ رفتہ 2، بجے گھر پہونچ گیا۔
آئبون، تائبون، عابدون، لربّنا حامدون۔
مورخہ 6، رمضان المبارک، 1447ھ، بروز سہ شنبہ
Comments
Post a Comment