ماہِ مقدّس رمضان المبارک


ماہِ مقدّس رمضان المبارک 

پھر آگیا جہاں میں رمضان کا مہینہ

 اللّٰہ کے کرم اور احسان کا مہینہ 


برادران اسلام! رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ مقدس مہینہ ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے بے شمار فضیلتوں اور رحمتوں سے نوازا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآنِ کریم نازل ہوا، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

"شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ" (البقرہ: 185)

رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور واضح تعلیمات پر مشتمل ہے۔

ماہِ رمضان المبارک کی منجملہ عبادات میں سے اہم عبادت اس ماہ کا روزہ ہے، اور یہ ایسی عبادت ہے جو پچھلے امتوں پر بھی مختلف طریقوں سے فرض تھا، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَیۡكُمُ ٱلصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ 

[البقرة: 183]

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔

روزۂ رمضان کا مقصد: رمضان صبر، تقویٰ اور عبادت کا مہینہ ہے۔ روزہ انسان کو نفس کی خواہشات پر قابو پانے اور اللّٰہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو کہ "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" سے واضح ہے۔

بہر حال! رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت کے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، جن میں اس مہینے کے جنت میں استقبال کی تیاری کا ذکر بھی ملتا ہے۔ 

 چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ: حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک جنت کو رمضان کے لیے سال بھر آراستہ کیا جاتا ہے، اور جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں"۔

 یہ مضمون مختلف روایات میں آیا ہے، جنہیں محدثین نے مختلف طُرق سے نقل کیا ہے۔

اسی طرح فضائلِ رمضان کے سلسلے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔" اس کی مزید تشریح مضمون کے آخر میں کی گئی ہے۔


غرضیکہ! احادیث میں رمضان المبارک کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَن صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِهِ"

 جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔


برادرانِ اسلام! رمضان المبارک میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں جبکہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ یہ مہینہ ہمدردی، سخاوت اور غریبوں کی مدد کا درس دیتا ہے۔

حاصل! رمضان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اللّٰہ کے حکموں اور نبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ڈھالیں، قرآن سے تعلق مضبوط کریں، اور تقویٰ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، در حقیقت اسی میں کامیابی مضمر ہے۔

     گناہوں کی عادت چھڑا دے یا الٰہی 

     ہمیں نیک انساں بنا دے یا الٰہی


تراویح اور اس کے متعلقات:

حنفی مسلک کے مطابق (پورے رمضان المبارک) بعد نماز عشاء بیس رکعات تراویح باجماعت (مرد و عورت دونوں کے لئے) سنتِ مؤکدہ ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود بھی ادا فرمائی اور صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کو بھی ترغیب دی۔

یہ عمل حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے سے سال در سال باجماعت جاری ہے۔


جماعت کا حکم: مردوں کے لیے مسجد میں باجماعت پڑھنا سنتِ کفایہ ہے۔ اگر محلے میں کوئی بھی جماعت قائم نہ کرے تو سب گناہ گار ہوں گے۔ 

 قرآن سنانا: (یعنی ختم قرآن کا دور) پورے رمضان میں ایک مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کرنا سنت ہے۔ اگر حافظ میسر ہو تو مکمل قرآن سننا بہتر ہے۔

 عورتوں کے لیے گھر میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔

خلاصہ: 20، رکعت عشاء کے بعد باجماعت افضل ہے، مگر اکیلے بھی جائز ہے۔


چکیدہ: رمضان المبارک میں شیاطین کے جکڑے جانے کا ذکر صحیح احادیث میں آیا ہے۔ اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے حدیث اور اس کی تشریح دونوں کو دیکھنا ضروری ہے۔

حدیث: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ"۔ (بخاری، مسلم)

 جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

اس کا مفہوم کیا ہے؟: علماء نے اس کی کئی تشریحات بیان کی ہیں:

اول: حقیقی معنی "باندھنا"۔

بعض علماء کے نزدیک شیاطین کو واقعی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے، خاص طور پر بڑے متمرّد (سرکش) شیاطین اس سے ان کی شرارت کم ہو جاتی ہے۔

دوم: محدود اثر (مکمل نہیں) اس کا مطلب یہ نہیں کہ رمضان میں گناہ بالکل ختم ہو جاتے ہیں، بلکہ شیاطین کا اثر کمزور ہو جاتا ہے۔ انسان کا اپنا نفس (خواہشات) پھر بھی موجود رہتا ہے، جو گناہ کا سبب بن سکتا ہے۔

سوم: "روحانی تعبیر"، کچھ علماء کہتے ہیں کہ رمضان میں عبادت، روزہ، قرآن اور ذکر کی کثرت کی وجہ سے شیطانی وسوسوں کا اثر کم ہو جاتا ہے، گویا وہ "جکڑے" جاتے ہیں۔

خلاصہ: شیاطین کو جکڑنے کا ذکر صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برائی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں، مگر ختم نہیں ہوتے۔ اصل امتحان پھر بھی باقی رہتا ہے کیونکہ نفسِ امّارہ انسان کے اندر موجود ہے۔

ما حصل: رمضان ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ جب شیطانی اثر کم ہو تو ہم آسانی سے نیکی کی طرف آئیں اور اپنی اصلاح کریں۔


لبّ لباب: رمضان المبارک میں متمرد و سرکش شیاطین کے زنجیروں میں جکڑے جانے کی کیفیت و حقیقت یہ ہے کہ "انسانی نفسیات کائناتی نظام کے ایک عظیم ترین اصول سے مربوط ہے۔ انسان دو قوتوں کا امتزاج و مرکّب ہے۔ قوائے ملکوتی (نورانی اور الہامی قوتیں، طاقتیں) اور قوائے بہیمی (نفس کی سفلی و حیوانی خواہشات)۔ عام دنوں میں یہ دونوں قوتیں ایک مسلسل کشمش میں مصروف و متصادم رہتی ہیں مگر رمضان المبارک میں حالات کارخ یکسر بدل جاتا ہے۔ چوں کہ ماہ رمضان المبارک میں بارانِ رحمتِ الٰہی موسلا دھار برستی ہے، تجلیاتِ انوارِ باری تعالیٰ دلوں کو منور کرتی ہیں، اور فضاء نیکی کے انوارات سے معمور ہو جاتی ہے۔ یوں قوائے ملکوتی کو ایک غیر معمولی تقویت حاصل ہوجاتی ہے، اور قوائے بہیمی (نفوسِ انسانی، بلکہ نفس امارہ مراد لینا زیادہ بہتر ہوگا) جو شیطانی وسوسوں کا اصل محرّک {ان النفس لأمارۃ بالسوٓء} بلکہ ہدف ہوتے ہیں اپنی کمزوری کے سبب پسپائی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے احادیث میں شیاطین کے جکڑے جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 شیطان در حقیقت اس وقت تک انسان پر غلبہ و تسلط حاصل نہیں کر سکتا جب تک انسان کے باطن میں بہیمیت ( ظلم، حیوانیت، بے راہ روی ) غالب نہ ہو۔ مگر رمضان میں جب روزہ قیام، تلاوت قرآن، ادعیہ و اذکار اور عبادات کی کثرت سے روحانی قوت بیدار اور جسمانی خواہشات مغلوب ہو جاتی ہیں، تو شیطان کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ یہی معنوی زنجیر اسے جکڑ دیتی ہے۔ اب وہی انسان، جو عام دنوں میں شیطان کے اشاروں پر چلنے کے لئے آمادہ رہتا تھا، اب اس کے بہکاوے کو سننے سے بھی انکار کر دیتا ہے"۔

مسجد میں رونقیں ہیں تو گھر گھر میں تلاوت

اب قید میں شیطان ہے رمضان آگیا


اعتکاف: 

اعتکاف ایک نہایت عظیم عبادت ہے۔ اعتکاف کے لغوی معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں، خاص نیت کے ساتھ رمضان المبارک کے آخری (عشرہ) دس دنوں (20 رمضان غروبِ آفتاب سے عید کا چاند نظر آنے تک) مسجد میں ٹھہرنا اعتکافِ مسنون کہلاتا ہے، جو کہ سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔ یہ عبادت گناہوں سے تحفظ اور شب قدر کی تلاش کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں بندہ دنیاوی مشاغل سے الگ ہوکر مکمل طور پر اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اعتکاف اللّٰہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے، گناہوں سے بچنے اور شبِ قدر حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں اخلاص، صبر اور یکسوئی بہت ضروری ہے۔


اعتکاف اور اس کے متعلقات:

  * سنتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلّم:

نبی کریم ﷺ ہر سال رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔

 *شبِ قدر کی تلاش: اعتکاف کا ایک بڑا مقصد شبِ قدر کو تلاش کرنا ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

 * گناہوں سے حفاظت: اعتکاف انسان کو گناہوں اور لغویات و فضولیات سے بچاتا ہے اور دل کو پاک کرتا ہے۔

* اللّٰہ سے قربت: یہ عبادت بندے کو اللّٰہ تعالیٰ کے بہت قریب ہونے کا ذریعہ ہے۔


احکام و مسائلِ اعتکاف:

 اعتکاف کی جگہ: مرد کے لیے مسجد میں اعتکاف ضروری ہے۔ عورت اپنے گھر میں مخصوص جگہ (نماز کی جگہ) پر اعتکاف کر سکتی ہے۔

اعتکاف کی نیت: دل میں نیت کافی ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں۔

جن چیزوں سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے وہ یہ ہیں: بلا ضرورت مسجد سے باہر نکلنا۔

بیوی سے صحبت یا شہوت کے کام۔

جان بوجھ کر روزہ توڑنا (اگر روزہ شرط ہو)

جن کاموں کی اجازت ہے: ضروری حاجت کے لیے باہر جانا (جیسے قضائے حاجت)، کھانا پینا، سونا، دینی کتاب پڑھنا، ذکر و تلاوت کرنا۔


 اعتکاف میں مستحب اعمال: قرآن پاک ک

ی تلاوت، ذکر و اذکار، درود شریف، دعاء و استغفار اور نوافل کا اہتمام۔


Comments

Popular posts from this blog

قومی ترانہ (راشٹریہ گان)

جادو برسرِ جادوگر

اُمُّ الصّبیان، بچوں کا جان لیوا مرض