بنگلور کا دعوتی سفر
سلطان شاہ مسجد (مرکز) کی سہ منزلہ (مع دو منزلہ تہ خانہ Double-storey basement) وسیع عمارت اعلیٰ طرزِ تعمیر کا نمونہ پیش کرتی ہے۔
خیر! 13، جنوری بروز منگل فجر کے بعد کلُ ہند مشورہ کا آغاز ہوا، فجر کے بعد پہلا بیان حضرت مولانا ابراہیم دیولہ صاحب برکاتہم العالیہ کا (دعوت کی افادیت، اہمیت اور ضرورت نیز دعوت کے طریقۂ کار سے متعلق) ایک گھنٹہ تک بیان ہوا۔
پھر ناشتہ کا وقفہ ہوا، دس بجے دوسری نشست میں سالانہ کارگزاری کا عمل شروع ہوا جو مغرب بعد تک جاری رہا۔
بتاریخ 14، جنوری بروز بدھ بھائی الحاج فاروق صاحب کا بیان ہوا۔
بتاریخ 15، جنوری بروز جمعرات فجر کے بعد پہلی نشست میں مولانا اسماعیل صاحب گودھرا کا بیان ، دوسری نشست میں مولانا احمد لاٹ صاحب کا بیان ہوا، اس کے بعد مولانا ابراہیم دیولہ صاحب کا مختصر بیان اور اور دعاء پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
مشورہ میں طے شدہ ہدایات تحریری شکل میں تمام صوبوں کے ذمہ داران اور کچھ اضلاع کے ذمہ داران کو بھی سپرد کیا گیا۔
اگلا کل ہند مشورہ بتاریخ 22/21/20 اپریل 2026ء بروز پیر ، منگل و بدھ۔ بمقام مدنی مرکز، جوگیشوری ویسٹ، ممبئی ہونا طے پایا ہے۔
:سپاس و تشکّر
قابلِ مبارک باد ہیں سلطان شاہ مرکز کے ذمہ داران، اساتذہ کرام، طلباء عزیز، اہل نظم و نسق، (اور اہالیانِ بنگلور بھی) کہ توقع (تقریباً دو ہزار افراد) سے دوگنا بلکہ اس سے بھی زیادہ (کم وبیش ساڑھے چار ہزار) افراد کی انتہائی فراخ دلی، کشادگی و فراوانی کے ساتھ صبح و دوپہر و رات (تینوں وقت) انواع و اقسام کے لذیذ کھانوں سے ضیافت کی، اور چائے مع وائے (پاؤ، بسکٹ، کیلے) تو شب و روز چوبیس گھنٹے دستیاب تھے۔ اور ساتھ ہی وارد مہمانانِ کرام کو ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشن نیز بس اسٹینڈ سے مرکز کے مابین اور ختمِ پروگرام کے بعد روانگی کے لئے مرکز سے مذکورہ مقامات تک ترسیل، نقل و حمل، آمد و رفت کے لئے سیکڑوں مستعد رضاکاروں کو تعینات کر رکھا تھا۔ (عمداً ان کھانوں کا تذکرہ ترک کرتا ہوں کہ جو ساتھی کسی وجہ سے شریکِ مشورہ نہ ہوسکے کہیں وہ اپنی عدم حاضری پر کفِ افسوس نہ ملنے لگیں)۔
فجزاھم اللّٰہ احسن الجزاء الجزیل۔
___________
:حادثۂ فاجعہ
بتاریخ 13، جنوری کی صبح ہم لوگوں کے رفیق جناب ڈاکٹر اکرام اللّٰہ صاحب کے ایک برادر عزیز جو کہ سعودی عرب میں برسرِ ملازمت تھے، اطلاع ملی کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے، (اِنّا للّٰہ وانا الیہ رجعون) ڈاکٹر صاحب کا واپسی کا ٹکٹ منسوخ کرایا گیا، اور ڈاکٹر صاحب اپنے خسر جناب پی ایم انصاری صاحب (جو کہ پہلے سے بنگلور مرکز میں موجود تھے ان) کے ہمراہ 14، جنوری کی صبح بغرض عزاداری گورکھپور گھر پر آگئے۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائیں، پس ماندگان و متعلقین و منتسبین کو صبرِ جمیل عطاء فرمائیں۔
اور اسی طرح پروگرام سے فارغ ہوکر جناب حاجی شفیق احمد صاحب اپنے فرزند ارجمند جناب حافظ ڈاکٹر محمد انس صاحب کے ساتھ ان کی تعلیم گاہ 'وِجے واڑہ' کے لئے روانہ ہوگئے، وہاں سے دو دن قیام کے بعد وطن واپسی کا پروگرام تھا۔ (بسلامت روی و باز آئی) اللّٰہ تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ وطن تک پہنچائیں۔
____________
:کچھ بنگلور کے بارے میں
بنگلور (Bengaluru) بھارت کا ایک نہایت مشہور، ترقی یافتہ اور دلکش شہر ہے جو ریاست کرناٹک کا دارالحکومت ہے۔ اسے عموماً "گارڈن سٹی" اور "بھارت کی سلیکون ویلی" کہا جاتا ہے۔
بنگلور اپنی خوشگوار آب و ہوا، سرسبز باغات، کشادہ سڑکوں اور جدید شہری سہولتوں کی وجہ سے ملک بھر میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہ شہر آئی ٹی، سافٹ ویئر، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کے دفاتر قائم ہیں۔
تعلیمی اعتبار سے بھی بنگلور کو خاص اہمیت حاصل ہے، یہاں اعلیٰ تعلیمی ادارے، تحقیقی مراکز اور یونیورسٹیاں موجود ہیں، جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (IISc) جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے شامل ہیں۔
ثقافتی لحاظ سے بنگلور ایک ہمہ رنگ شہر ہے، جہاں مختلف زبانوں، تہذیبوں اور مذاہب کے لوگ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ تاریخی مقامات، جدید مالز، پارکس، جھیلیں اور ذائقہ دار کھانوں نے اس شہر کو نہایت دلکش بنا دیا ہے۔
مختصر یہ کہ بنگلور ترقی، علم، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تنوع کا حسین امتزاج ہے، جو بھارت کے نمایاں اور باوقار شہروں میں شمار ہوتا ہے۔
اور اب تبلیغ و دعوتِ دین کی خدمات کی انجام دہی میں بھی نمایاں اور قابل قدر حیثیت حاصل کر چکا ہے، مستقل قریب میں شورائی نظام کے عالمی مرکز کا درجہ حاصل کرسکتا ہے۔
__________
بتاریخ 15، جنوری بروز جمعرات ظہر کے بعد لال باغ بنگلور کی سیر کے لئے حافظ برکت اللّٰہ صاحب اور حافظ محمد دانش صاحب کی معیت میں مَیں بھی روانہ ہوا۔
:لال باغ، بنگلور کی خصوصیات
لال باغ (Lalbagh Botanical Garden) بنگلور کا ایک نہایت مشہور اور تاریخی نباتاتی باغ ہے۔ اس کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں۔
:تاریخی اہمیت
لال باغ کی بنیاد 1760ء میں سلطان حیدر علی نے رکھی، بعد میں ٹیپو سلطان نے اسے مزید وسعت دی۔
:وسیع رقبہ
یہ باغ تقریباً 240 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جو اسے بھارت کے بڑے نباتاتی باغات میں شامل کرتا ہے۔
نایاب پودے اور درخت:
یہاں ہندوستان اور بیرونِ ملک سے لائے گئے ہزاروں اقسام کے پودے، درخت اور جڑی بوٹیاں موجود ہیں۔
:شیش محل (گلاس ہاؤس)
باغ کا سب سے نمایاں حصہ شیش محل ہے، جو لندن کے کرسٹل پیلس کی طرز پر بنایا گیا۔ یہاں ہر سال مشہور پھولوں کی نمائش (Flower Show) منعقد ہوتی ہے۔
:قدیم درخت
لال باغ میں بعض درخت ایسے ہیں جن کی عمر سو سے ڈیڑھ سو سال سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔
:لال باغ جھیل
باغ کے اندر خوبصورت جھیل موجود ہے جو قدرتی حسن میں اضافہ کرتی ہے اور پرندوں کی آماجگاہ بھی ہے۔
:نباتاتی تحقیق کا مرکز
یہ باغ پودوں کی تحقیق، تعلیم اور تحفظ کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
:سیاحتی اور تفریحی مقام
صبح کی سیر، ورزش، خاندانی تفریح اور سیاحت کے لیے یہ بنگلور کے بہترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
:قدرتی حسن اور سکون
ہریالی، رنگ برنگے پھول اور کھلا ماحول ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔
______________
:اور اِسی بہانے
چونکہ مرکز آنے سے پہلے ہی احباب کا ارادہ تھا کہ "سیروا فی الأرض" کے تحت پروگرام ختم ہونے کے بعد بنگلور و میسور کے تفریحی مقامات کی سیر بھی کی جائے گی، لہٰذا 16، تاریخ خالی رکھ کر 17، جنوری کو واپسی کا ٹکٹ بک کرایا گیا تھا۔
مورخہ16، جنوری بروز جمعہ۔ سات افراد پر مشتمل (وفد) حافظ برکت اللّٰہ صاحب (گولڈن سویٹ) کی سرپرستی میں (فاطمی سلطان، شہیدِ قوم و ملت، مجدد دین حضرت ٹیپو سلطان رحمۃ اللّٰہ علیہ کی باقیات و یادگاروں کی زیارت اور سیر و سیاحت پر نکلا۔
:وضاحت
"فاطمی سلطان"۔ یہ لقب انہیں اس لئے دیا گیا کیونکہ وہ فاطمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اسلامی سلطنت کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔
"مجدد دین"۔ علمائے دین نے انہیں دین اسلام کا تجدید کنندہ (مجدد) قرار دیا، کیونکہ انہوں نے اسلامی قوانین کا نفاذ کیا اور معاشرے میں اسلامی اقدار کو فروغ دیا۔
"شہید"۔ انگریزوں کے خلاف جنگ میں شہادت کے بعد، انہیں "شہید" کا لقب دیا گیا، جس سے ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
صبح فجر کے بعد 7:30 بجے نکلے، 9:40 پر (دیارِ دولت باغ، شری رنگا پٹّن) معروف بہ 'سمر پیلیس' پہونچے۔
سب سے پہلا مرحلہ ٹکٹ حاصل کرنے کا تھا، نقد (cash) ٹکٹ نہیں مل رہا تھا، آن لائن پے کرکے 7، افراد کے لئے ٹکٹ حاصل کیا گیا۔ احاطے کے اندر داخل ہوتے ہی سامنے ٹیپو سلطان شہید کی رہائش گاہ نظر آئی، جو کہ ایک وسیع میدان میں واقع ہے، سبز جالی دار چٹائیوں سے گھیرا ہوا ہے، محل انتہائی دیدہ زیب، خوشنما، جاذبِ نظر ہے۔ جو فی الحال ٹیپو سلطان کے اسلحہ جات، توپ، بندوقوں اور دیگر باقیات، خانوادے کے افراد کی تصاویر کی نمائش
(British Commemorative Model)
برطانوی یادگاری نمونہ جات کے لئے مختص کردیا گیا ہے۔
مرد و خواتین پر مشتمل مامور عملہ گارڈن کی دیکھ ریکھ، باغبانی پر مصروف نظر آیا۔
محل باوجود قدیم و بوسیدہ ہونے کے اب بھی اندر و باہر دونوں ہی جانب بہت خوبصورت لگتا ہے۔
سمر پیلیس سے 10:30 پر روانہ ہوکر 11، بجے میسور قلعہ پہونچے۔ قلعہ کے باہر سے ہی سامنے پُرشکوہ عمارت نظر آئی، اندر داخل ہوئے، قلعہ کی عمارت انتہائی مضبوط، نقش و نگار سے پُر، بڑے بڑے دالان (بلکہ دار المشاورۃ، دربار ہال) اور اس میں منقش پائے، اور کچھ کمروں کی چھتوں کو منقش لکڑیوں سے بنایا گیا ہے۔
قلعہ کے اندر داخل ہونے کے دو دروازے تو پیتل کے بنے ہوئے ہیں جو کہ پھول پتیوں کے نقش و نگار سے مزین ہیں۔ اوپری منزل کی سیڑھیوں کی ریلنگ کے پائے سفید سنگ مرمر کے بنے ہوئے ہیں۔ اوپر بھی وسیع و عریض اور ہوادار ہال بنے ہوئے ہیں جو طرز تعمیر اور نقش و نگار کی بے مثال نظارہ پیش کر رہے ہیں۔
کسی مناسبت سے اسکول و کالجز کی تعطیل تھی جس کی وجہ سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین اپنی ذرّیات کے ساتھ قلعہ کی زیارت کے لئے آئی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے کافی ازدحام تھا، اندر چلنا مشکل ہو رہا تھا۔
چونکہ جمعہ کا وقت قریب ہوتا جا رہا تھا اس لئے جلدی جلدی سری طور پر پورے قلعہ پر ایک نظر ڈال کر 21، بجے تک باہر نکل آئے۔
وہاں سے ہم لوگ روانہ ہوکر 12:35 پر حضرت ٹیپو سلطان شہید کی مزار پر حاضر ہوئے، جیسے ہی مزار والے گراؤنڈ میں داخل ہوئے جمعہ کی اذان کی آواز سنائی دی۔ وضوء کیا، مسجد میں داخل ہوئے۔ معلوم ہوا کہ 1:30، پر خطبۂ جمعہ ہوگا، اس کے پہلے امام جمعہ کچھ خطاب فرمائیں گے۔
خیر ایک بجے منبر و محراب کے درمیان واقع دروازے سے امام عالی مقام جبہ و عبا پہنے، سرپر عمامہ باندھتے ہوئے کرّ و فر کے ساتھ نمودار ہوئے۔
:حسنِ اتفاق
مسجد کا نام "مسجد اقصیٰ" لکھا ہوا ہے۔ 16، جنوری کو قمری تقویم کے مطابق 26 رجب المرجب کی تاریخ تھی، آنے والی سب ستائیسویں شبِ معراج ہے، اسی مناسبت سے امام نے خطاب کیا تلاوت میں سورہ اسراء کی ابتدائی آیات پڑھیں۔ آدھی گھنٹے کے خطاب میں ایک مرتبہ بھی امت کو عمل پر آمادہ کرنے والی کوئی بات نہیں کی، بس واقعہ گوش گزار کرنے میں ہی سارا زور، سارا وقت گنوا دیا۔ یاوہ گوئی کے انداز کی تقریر پر کسی اہل دل و جرأت مند شخص نے کچھ ٹوکا، تو درود کی ڈالیاں پیش کرنے کی درخواست کے ساتھ خطاب کو جاری رکھا۔ بس آخر میں اتنا کہا کہ نماز معراج کا تحفہ ہے اور تحفے کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔
خیر خطبہ کی اذان ہوئی، خطبہ ہوا، اکثر نمازیوں کی تعداد اہل سنت والجماعت کی تھی، معدودے چند سُنّی (بلفظ دیگر بریلوی) تھے، اقامت ہوتے ہی اہل سنت حضرات اٹھ کھڑے ہوئے جس کی وجہ سے امام صاحب کے اوسان خطاء ہوگئے، انتہائی مختصر قرأت کے ساتھ نماز ادا کرائی، اور طویل دعاء کا اہتمام کیا، دعاء کی بعد سورہ یاسین کا اجتماعی ختم ہوا۔ خیر ہم لوگ اس فراق میں تھے کہ جلدی سے ٹیپو سلطان رحمۃ اللّٰہ علیہ کی مزار پر فاتحہ خوانی کرکے سفر کو مکمل کریں، مگر مزار کے دروازے پر کافی دیر تک وہاں نام ر لوگ درودشریف پڑھتے رہے، پندرہ منٹ کے بعد دروازہ کھلا، اندر کافی بھیڑ اکٹھا ہوچکی تھی، میرے رفقاء بھی داخل ہوئے اور فاتحہ خوانی کرکے باہر آئے۔
مزار پر اس قدر بد نظمی تھی کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اندر داخل ہوجاتی تھیں۔
وہاں سے فارغ ہوکر احباب نے ارادہ کیا کہ اس جگہ کی زیارت کی جائے جہاں شیرِ میسور ٹیپو سلطان کو شہید کیا گیا تھا، مگر چونکہ وہ دیوی علاقہ ہے، اور زبان کنڑ بولی جاتی ہے، استفسار بسیار کے باوجود جائے شہادت کی صحیح نشان دہی نہ ہوسکی۔ پھر ہم لوگ سلطان کی بنوائی ہوئی (عقوبت خانہ) جیل کا معاینہ کرنے پہونچ گئے جو کہ ایک بھاری ندی کے عقب میں واقع ہے۔ اور جامع مسجد کا بھی معاینہ کیا گیا، جس پر اہلِ ابتداع کا قبضہ ہے۔
خیر اس طرح 16، جنوری کا دن گزرا، زیارات سے واپس ہوکر مغرب کے بعد مرکز سلطان شاہ مسجد پہونچے۔
بتاریخ 17، جنوری بروز ہفتہ۔
صبح ٹھیک 7، بجے ہم تمام ساتھی بذریعہ وین مرکز سے ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔ 45 منٹ کے سفر کے بعد ٹرمینل 1 کے گیٹ پر پہونچے۔
ایک گھنٹہ میں بورڈنگ کے مراحل سے گزر کر 8:50 پر فارغ ہوکر اطمینان کی سانس لیتے ہوئے طیارہ کے پرواز کے انتظار میں بیٹھے رہے۔ فلائٹ 'اکاسا ایئر' اپنے وقت مقررہ کے مطابق 11:10 پر پرواز کی۔
اس طرح 2، گھنٹہ 20، منٹ کی پرواز کا دورانیہ مکمل کرکے وقت مقررہ کے مطابق بوقت دوپہر 1:30، پر طیارہ کی پرواز اختتام کو پہونچی اور طیارہ بحسن و خوبی اتر گیا۔ اور تمام رفقائے سفر دعوت کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے عزم و ارادہ کے ساتھ گورکھپور پہونچ گئے۔


Comments
Post a Comment